ایران جنگ: امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی، مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں، عراقچی

تہران(ویب ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی، جس پر صدر مسعود پزشکیان نے امریکی درخواستوں کو سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کی۔

عباس عراقچی کے مطابق صدر پزشکیان نے مذاکرات کے ذریعے جنگ کو خاتمے کی جانب لے جانے پر زور دیا، جبکہ انہی کی تجویز پر باقر قالیباف کو مذاکراتی ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کو واضح کیا کہ اسے عارضی نہیں بلکہ مستقل جنگ بندی چاہیے۔ ان کے بقول دشمن ایران کو سرنڈر کرانے، حکومت کی تبدیلی، ملک کو تقسیم کرنے اور اندرونی بدامنی پیدا کرنے کے منصوبوں میں ناکام رہا۔

عراقچی نے دعویٰ کیا کہ دشمن نے جو بھی منصوبہ آزمایا اسے ناکامی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے کردی زبان میں گفتگو کی، جس سے عراقی کردستان کے عوام بھی ایران سے جڑے۔ 40 روزہ جنگ کے دوران ایران اور آذربائیجان کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق صدر پزشکیان نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور چند آذری کہاوتوں کے استعمال سے دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی کم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں صدر پزشکیان کی سفارتی کوششوں نے اہم کردار ادا کیا۔

مزید خبریں

Back to top button