کتے کی ’’نس بندی‘‘ کراؤ، اس کے 6 بچے ہیں، کہاں سے پالے گا؟ شہری سرکاری دفتر پہنچ گیا

بھوپال/مدھیہ پردیش(جانوڈاٹ پی کے)بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور ان کی نس بندی کے معاملے نے ایک دلچسپ صورت اختیار کرلی، جہاں ایک شہری مبینہ طور پر اپنے علاقے کے کتے کی نس بندی کرانے کی درخواست لے کر سرکاری دفتر پہنچ گیا۔
شہری کا مؤقف تھا کہ کتے کے 6 بچے ہیں اور وہ اتنے بچوں کو کہاں سے پالے گا؟ اس لیے متعلقہ حکام کتے کی نس بندی کا انتظام کریں تاکہ مزید بچوں کی پیدائش روکی جاسکے۔
بھارت میں آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے نس بندی اور ویکسینیشن کا باقاعدہ قانونی نظام موجود ہے۔ بھارتی حکومت نے Animal Birth Control Rules 2023 نافذ کیے ہیں، جن کے تحت آوارہ کتوں کی نس بندی اور حفاظتی ٹیکہ کاری کی ذمہ داری مقامی بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے بھی آوارہ کتوں کے معاملے میں مختلف احکامات کے ذریعے انہیں پکڑنے، نس بندی، ڈی ورمنگ اور ویکسینیشن کے اقدامات کی ہدایات دی ہیں۔ نومبر 2025 کے ایک اہم حکم میں عدالت نے واضح کیا کہ یہ اقدامات Animal Birth Control Rules 2023 کے مطابق کیے جائیں اور نس بندی و ویکسینیشن کے بعد مناسب حالات میں کتوں کو اسی علاقے میں واپس چھوڑا جاسکتا ہے۔
مدھیہ پردیش میں بھی یہ معاملہ عدالتی سطح پر زیرِ بحث رہا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے مارچ 2025 میں اندور سمیت متعلقہ بلدیاتی اداروں کو ABC Rules 2023 پر سختی سے عمل درآمد، کتوں کی نس بندی و ویکسینیشن اور مناسب شیلٹرز کے انتظام کی ہدایات دی تھیں۔
دسمبر 2025 میں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے اندور میونسپل کارپوریشن کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آوارہ کتوں کے خلاف اقدامات اور نس بندی سے متعلق پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں آوارہ کتوں کی نس بندی کا معاملہ اس قدر اہم بن چکا ہے کہ 2026 میں ریاستی سطح پر بھی اس پروگرام کے مؤثر نفاذ پر سوالات اٹھائے گئے، جبکہ اجین میونسپل کارپوریشن نے 2026-27 کے لیے آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کا ٹینڈر بھی جاری کیا۔
کتوں کے خوف سے بندہ خود ہی کتا بن گیا..! 😂🐶
انڈیا ،مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں آوارہ کتوں کی دہشت سے تنگ شخص نے کلکٹریٹ پہنچ کر ایسا احتجاج کیا کہ دیکھ کر انتظامیہ کے بھی طوطے اڑ گئے۔ جب انسانوں کی کوئی نہیں سنتا، تو بندہ یہی کرے نا؟ 😀 pic.twitter.com/h6nKczzggb— Ather Salem® (@AthSal01) August 19, 2026



