تھرپارکر میں شادی شدہ لڑکی کی مبینہ دوبارہ شادی کا معاملہ، پنچایت کرنے والے وڈیروں سے پوچھ گچھ، عدالت نے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر میں شادی شدہ لڑکی کی مبینہ طور پر دوبارہ زبردستی شادی کرانے کے معاملے نے قانونی رخ اختیار کرلیا، مٹھی کی سیشن عدالت نے پنچایت میں مبینہ طور پر ملوث افراد سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پبلک کمپلینٹ ریڈریسل سیل اور ایس ایچ او تھانہ ڈیپلو کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق Criminal Miscellaneous Application No. 552/2026 درخواست گزار آکاش کمار ولد لیموں میگھواڑ، ساکن گاؤں ویڑہار تعلقہ ڈیپلو، کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعات 22-A، 22-B اور 22-A(6)(iii) کے تحت دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں ہمیر چند اور دیگر افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے انچارج ڈسٹرکٹ پبلک کمپلینٹ ریڈریسل سیل، ضلع تھرپارکر (ایس ایس پی آفس مٹھی) اور ایس ایچ او پولیس اسٹیشن ڈیپلو کو معاملے سے متعلق اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے 18 اگست 2026 کو صبح 8:30 بجے رپورٹ طلب کی ہے، جبکہ اسی روز درخواست کی سماعت بھی مقرر کی گئی ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق آکاش کمار کا مؤقف ہے کہ اس نے مسماۃ انیلا سے اپنی رضامندی اور آزاد مرضی سے شادی کی تھی، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر دھوکے اور فراڈ کے ذریعے معاملہ پیدا کیا گیا۔

درخواست گزار نے اپنے قانونی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

درخواست میں ہمیر ولد جگو، موہن ولد ٹھاکرو مل، نتھو ولد سورو، اوتارام ولد سورو، امولک ولد سورو، مٹھو ولد سورو اور دیگر افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 5 اگست 2026 کو آکاش ولد لیموں، گاؤں ویڑہار کا میرج سرٹیفکیٹ جبکہ 7 اگست 2026 کو بھرت ولد توگو، گاؤں کونرل کا میرج سرٹیفکیٹ سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بالغ افراد اپنی آزاد مرضی اور رضامندی سے شادی کرتے ہیں تو ان کے معاملات کا فیصلہ قانون اور عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ کسی بھی قسم کی پنچایت یا جرگہ قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔

ان حلقوں کے مطابق نوجوانوں کے ذاتی اور ازدواجی معاملات میں سماجی دباؤ کے بجائے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا ضروری ہے تاکہ کسی فرد کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

عدالت کی جانب سے پولیس سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد 18 اگست کی سماعت میں معاملے کی مزید قانونی صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔

مزید خبریں

Back to top button