حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکا سے مذاکرات معطل کیے، قالیباف

تہران(ویب ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل کردیئے گئے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے کہا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہلخانہ سمیت شہید ہوئے، جس کے بعد ایران نے مذاکرات روک دیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے واضح کردیا تھا کہ اسی رات حملے کا جواب دیا جائے گا اور اگر اسرائیل نے دوبارہ ردعمل دیا تو پورے خطے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

باقر قالیباف کے مطابق اسی رات امریکا نے ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کھولے گا۔ ان کے بقول ایران نے ایسے کسی معاہدے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

ایرانی چیف مذاکرات کار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثالثوں سے کہا کہ اگر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی یہ پوسٹ فوری طور پر حذف نہ کی گئی تو ایران اسی شدت سے حملہ کرے گا جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق 58 منٹ بعد ٹرمپ نے پوسٹ کا دوسرا حصہ حذف کردیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز معاہدے کے تحت ہفتے کے روز کھولی جائے گی۔

قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ مذاکرات دراصل جدوجہد کا نام ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع کردی گئی اور تاحال جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔

ایرانی حکام نے ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ہمیشہ ایران کا حصہ رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کو صرف ایران کی کمان میں ہی بند یا کھولا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button