ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان مذاق تھا، وائٹ ہاؤس

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان مذاقاً دیا تھا اور اس حوالے سے ان کے مشیروں کے ساتھ کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے واضح کیا کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق کسی اقدام پر اپنے مشیروں سے نہ ملاقات کی اور نہ ہی کوئی منصوبہ زیرِ بحث آیا۔

ٹرمپ نے نیویارک میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے۔ اس بیان کے بعد یہ سوال اٹھا کہ آیا امریکا واقعی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کے مطابق ٹرمپ اپنی تقریر کے دوران مذاق کر رہے تھے۔ تاہم تقریر میں موجود صحافی برائن شوارٹز کے مشاہدے کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات کہنے کے بعد مسکرایا ضرور، لیکن ان کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اپنے بیان کو مکمل طور پر مذاق نہیں سمجھ رہے ہوں۔

آبنائے ہرمز پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں اس راستے سے تجارتی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button