لاہور پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، میتیں پاکپتن پہنچا دی گئیں، اہلِ خانہ کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

پاکپتن(جانوڈاٹ پی کے) لاہور میں مبینہ طور پر پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والی دو خواتین کی میتیں سخت سکیورٹی میں ان کے آبائی علاقے بستی غوث نگر، پاکپتن پہنچا دی گئیں، جہاں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔

دونوں خواتین کی نمازِ جنازہ درگاہ بستی چن پیر میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں ایک دوسرے کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق جاں بحق ہونے والی 18 سالہ انمول بی بی اور 20 سالہ آمنہ نند بھاوج تھیں۔ انمول ایک شیر خوار بچی جبکہ آمنہ ایک بچے کی والدہ تھیں۔ خاندان کے مطابق دونوں خواتین لاہور کے علاقے چونگی امرسدھو میں رہائش پذیر تھیں اور پنسلیں فروخت کر کے اپنے اہلِ خانہ کا گزر بسر کرتی تھیں۔

لواحقین کا مؤقف ہے کہ 4 اگست کو ٹاؤن شپ پولیس نے دونوں خواتین کو مبینہ چوری کے الزام میں حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا، جبکہ 5 اگست کو انہیں تھانے میں مردہ پایا گیا۔

اہلِ خانہ نے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے انصاف فراہم کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ خبر میں بیان کیے گئے الزامات اہلِ خانہ کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔

مزید خبریں

Back to top button