فیلڈمارشل کی خاموش سفارتکاری کام کر گئی!دفاعی معاہدے میں اہم کردار

اسلام آباد/مکہ مکرمہ(رپورٹ:جانوڈاٹ پی کے) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سیدعاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سرکاری ذرائع اور دفاعی امور سے واقف حلقوں کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے جاری اعلیٰ سطحی عسکری اور سفارتی رابطوں کے بعد یہ معاہدہ اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عسکری اور سیاسی قیادت کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتوں میں مشترکہ دفاعی فریم ورک، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان روابط کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں ایک مؤثر اجتماعی دفاعی نظام تشکیل دینا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، تاہم ستمبر2025میں ہونے والے اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ نے ان تعلقات کو باضابطہ دفاعی شراکت داری میں تبدیل کیا۔ اسی بنیاد پر اب ترکیہ کی شمولیت سے اس تعاون کو سہ فریقی سطح تک وسعت دی گئی ہے۔

مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم،سعودی ولی عہداور ترک صدر نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس کے تبادلے، دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس سے قبل بھی سعودی عرب کے متعدد اہم دورے کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سمیت اعلیٰ عسکری قیادت سے علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال غیر یقینی ہے، یمن، بحیرہ احمر، ایران سے متعلق کشیدگی اور خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی حالات نئے دفاعی انتظامات کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی عسکری سفارت کاری، سعودی عرب کی علاقائی حیثیت اور ترکیہ کی دفاعی صنعت کا امتزاج اس معاہدے کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاہدہ نہ صرف تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اعتماد کو مضبوط کرے گا بلکہ مشترکہ دفاع، انسداد دہشت گردی، فوجی تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ تاہم معاہدے کی مکمل قانونی دستاویز تاحال جاری نہیں کی گئی، اس لیے اس کے نفاذ اور عملی طریقہ کار کی مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button