غزہ سے ممکنہ اسرائیلی انخلا پر اختلافات، حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ سیاسی تنازع بن گیا

غزہ(ویب ڈیسک) غزہ میں حماس کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے سے متعلق مجوزہ معاہدے کے بعد اسرائیل کے ممکنہ انخلا پر اسرائیلی سیاست میں شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔

مجوزہ معاہدے کے مطابق حماس مرحلہ وار اپنے ہتھیار ڈالے گی، جبکہ اس کے بدلے اسرائیل غزہ سے تدریجی انخلا کرے گا اور انتظامی اختیارات ایک فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں گے۔

تاہم ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس مکمل اور حقیقی معنوں میں غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اس وقت تک اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا نہیں کریں گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر اسرائیل کے اندر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو آئندہ انتخابات کے تناظر میں اپنی سیاسی بقا، حکومتی اتحادیوں کی حمایت اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے کا انحصار سکیورٹی صورتحال، مجوزہ معاہدے پر عملدرآمد اور اسرائیلی حکومت کے آئندہ سرکاری مؤقف پر ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button