آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات، تیسرا دور بھی مکمل

مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے) آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا دور بھی مکمل ہوگیا، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان تاحال کسی حتمی معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز ایک نجی ہوٹل میں ہونے والی ملاقات تقریباً 20 منٹ جاری رہی، جس میں انتخابات کے بعد ممکنہ حکومت سازی، سیاسی صف بندی، باہمی تعاون اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے میرپور ڈویژن میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے معاملات بھی اٹھائے، جس پر دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پولنگ کے دوران کارکنوں کو صبر و تحمل کی تلقین کی جائے گی اور شفاف، آزاد اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے باہمی تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔
مذاکرات کے تیسرے دور میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، نیئر حسین بخاری اور ندیم افضل چن شریک ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنما طارق فاروق اور دیگر اہم شخصیات نے کی۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان یہ رابطے جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو تین مختلف مراحل میں ہوئے، جن کا مقصد انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینا اور مستقبل میں ممکنہ تعاون کے امکانات پر غور کرنا تھا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی مشاورت کی گئی کہ موجودہ سیاسی حالات میں باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائے، تاہم مذاکرات کے نتائج یا کسی ممکنہ سیاسی فارمولے کے حوالے سے فریقین نے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
آزاد کشمیر کے عام انتخابات تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی، جہاں مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔
دوسرے مرحلے میں آج مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ جاری ہے، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو راولاکوٹ (پونچھ) ڈویژن کی 11 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دوسرے مرحلے کے نتائج آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر فیصلہ کن اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری مذاکرات نئی حکومت کی تشکیل اور ممکنہ سیاسی اتحاد کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔



