گاؤں نور محمد چانڈیو کا اسکول بند، اہلِ علاقہ کا شدید احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/پی کے)کڈھن کے قریب واقع گاؤں نور محمد چانڈیو کا سرکاری پرائمری اسکول گزشتہ کئی ماہ سے بند پڑا ہے جس کے باعث نہ صرف گاؤں نور محمد چانڈیو بلکہ گردونواح کے متعدد دیہات کے دو سو سے زائد معصوم بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے جبکہ ان کا روشن مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے تفصیلات کے مطابق گاؤں کے رہائشی ہاشم چانڈیو انور چانڈیو، گگو کولہی اور دیگر نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ سال 2023 میں مسلسل جدوجہد اور متعلقہ حکام سے بارہا رجوع کرنے کے بعد اسکول کی عمارت تعمیر کی گئی تھی، جس کے بعد دو آئی بی اے پاس اساتذہ بھی تعینات کیے گئے۔ کچھ عرصے تک تدریسی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں، تاہم اب بغیر کسی واضح وجہ کے اسکول بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے اپنے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں مظاہرین نے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات ختم ہو گئی ہیں صوبے بھر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بچے اسکولوں کا رخ کریں گے، مگر ان کے گاؤں اور گردونواح کے بچوں کو اسکول بند ہونے کے باعث تعلیم سے محروم رہنا پڑے گا، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے انہوں نے مزید بتایا کہ کڈھن شہر سے اس علاقے تک تقریباً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے میں کوئی دوسرا سرکاری پرائمری اسکول موجود نہیں علاقے کے بیشتر رہائشی غریب اور محنت کش ہیں، جو اپنے بچوں کو دور دراز اسکولوں میں بھیجنے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر تعلیم، سیکریٹری تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں نور محمد چانڈیو کے بند سرکاری پرائمری اسکول کو فوری طور پر کھولا جائے، اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بلا تاخیر دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ سینکڑوں بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔



