کنگنا رناوت کے بیان پر کاکروچ جنتا پارٹی کا سخت جواب

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان آشوتوش رانکا نے رکن پارلیمنٹ و اداکارہ کنگنا رناوت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے ہمیں کاکروچ اور ’گٹر جنریشن‘ کہا، لیکن یاد رکھیں انہی ‘کاکروچز’ نے آپ کی حکومت کے ایک وزیر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔
کنگنا رناوت نے طلبہ احتجاج سے متعلق سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیتے ہوئے مظاہرین کو ’گٹر جنریشن‘ کہا تھا۔
اس کے جواب میں سی جے پی کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ نہ صرف ان کی اپنی جماعت بلکہ جنریشن زیڈ بھی کنگنا رناوت کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کنگنا رناوت نے دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ نازیبا نعروں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔
یہ احتجاج 20 جولائی کے ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے بعد پولیس کارروائی کے تناظر میں سامنے آیا، جبکہ 25 جولائی کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد پرہلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔
سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا کون ہیں؟
آشوتوش رانکا ایک پبلک پالیسی ماہر، سابق منیجمنٹ کنسلٹنٹ اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمانوں میں شامل ہیں۔ وہ 2026 کے نیٹ پیپر لیک تنازع کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے دوران نمایاں عوامی چہرے کے طور پر سامنے آئے۔
رانکا نے تحقیقاتی صحافی سورَو داس کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک کی نمائندگی کی، وفاقی وزرا سے مذاکرات میں حصہ لیا اور میڈیا کے سامنے مظاہرین کا مؤقف پیش کیا۔
راجستھان کے شہر جے پور سے تعلق رکھنے والے آشوتوش رانکا نے آئی آئی ٹی کانپور سے میٹریلز سائنس اینڈ انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی، جہاں وہ 2016-17 کے دوران طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس جم خانہ کے صدر بھی رہے۔
بعد ازاں انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس سے ماسٹرز اِن پبلک ایڈمنسٹریشن مکمل کیا، جہاں ان کی توجہ پبلک پالیسی اور گورننس پر مرکوز رہی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد رانکا نے عالمی کنسلٹنسی کمپنی میکنزی اینڈ کمپنی میں منیجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں انہوں نے پبلک پالیسی اور گورننس کے شعبے میں کام جاری رکھا۔
انہوں نے میگزنز اور مختلف پلیٹ فارمز پر گورننس، معیشت اور عوامی پالیسی سے متعلق مضامین بھی تحریر کیے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی تعلیم، نوجوانوں اور حکومتی اصلاحات سے متعلق سرگرم رہے۔
جون 2026 میں کاکروچ جنتا پارٹی نے آشوتوش رانکا کو سورَو داس اور وجیتا دہیا کے ساتھ اپنے باضابطہ ترجمانوں میں شامل کیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی نظیم نے آن لائن مہم سے نکل کر ایک منظم عوامی تحریک کی شکل اختیار کی۔
آشوتوش رانکا اس وقت ایک بار پھر خبروں میں ہیں کیونکہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاج کے دوران وہ حکومت اور سی جے پی کے درمیان مذاکرات کرنے والے اہم نمائندوں میں شامل رہے۔ ان کے ساتھ ابھیجیت دپکے اور سورَو داس بھی اس تحریک کے نمایاں عوامی چہرے تصور کیے جاتے ہیں۔



