بدین میں نان کسٹم پیڈسگریٹ کاکاروبار عروج پر،ماہانہ فروخت10سے15کروڑروپے تک پہنچنے کادعویٰ

ماتلی(رپورٹ:اے۔ایم۔گدی)بدین میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے مختلف برانڈز کی ماہانہ فروخت تقریباً 10 سے 15 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ،صرف ایک ضلع کی سطح پر قومی خزانے کو ممکنہ طور پر کروڑوں روپے کے محصولات سے محرومی کا سامنا ہے، جبکہ ماتلی سمیت ضلع بدین کے مختلف شہروں، قصبوں، دیہی علاقوں اور گاؤں گوٹھوں میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی کھلے عام فروخت اور مسلسل سپلائی نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد کارروائیوں اور بڑی مقدار میں سگریٹ کی برآمدگی کے باوجود اصل سپلائرز، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک، گوداموں اور سپلائی چین کی بالائی کڑیوں تک کارروائی نہ پہنچنا اس امر کا سوالیہ نشان ہے کہ آخر کارروائیاں ہمیشہ آخری سرے پر موجود چھوٹے دکاندار یا کیبن مالک تک ہی کیوں محدود رہتی ہیں۔ تحقیقاتی معلومات کے مطابق نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی مبینہ سپلائی کسی ایک سیلز مین یا دکاندار تک محدود نہیں بلکہ کمپنی کی سطح سے مارکیٹ میں موجود آخری فروخت کنندہ تک ایک مکمل نیٹ ورک کی شکل میں کام کرتی ہے، جس میں کمپنی کے سیلز ڈھانچے میں DSR (Distributor Sales Representative)، TSO (Territory Sales Officer)، AM (Area Sales Manager)، SM (Sales Manager)، NSM (National Sales Manager) اور Director Sales جیسے مختلف عہدے شامل ہوتے ہیں، جبکہ سپلائی کے دوسرے مرحلے میں مختلف علاقوں میں قائم ڈپو، گودام اور ویئر ہاؤسز سے مال کی ترسیل کے بعد Super Distributor، Sole Distributor، Distributor اور Sub-Distributor کے ذریعے یہ نیٹ ورک آگے بڑھتا ہے اور پھر DSR یا فیلڈ سیلز اسٹاف مختلف شہروں، قصبوں، دیہی علاقوں، دکانوں، پان شاپس اور کیبنوں تک سپلائی پہنچاتے ہیں۔ مقامی مارکیٹ ذرائع کے مطابق ماتلی شہر اور تحصیل کے مختلف علاقوں میں قائم ہزاروں کیبنوں، پان شاپس اور دکانوں پر نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے مختلف برانڈز مبینہ طور پر سرعام فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ فیلڈ میں کام کرنے والے سیلز مین روزانہ موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے مختلف مارکیٹوں کا دورہ کرتے ہیں، دکانداروں کے پاس ان سیلز مینوں کے موبائل فون نمبرز موجود ہوتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس علاقے میں کون سا نمائندہ سپلائی کے لیے آتا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیلز مین کے رابطہ نمبرز، سپلائی روٹ اور کاروباری روابط کی تحقیقات کی جائیں تو اس کے ذریعے ڈسٹری بیوٹر، سب ڈسٹری بیوٹر اور اس سے اوپر موجود سپلائی نیٹ ورک تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم اب تک ہونے والی کارروائیوں میں اس مکمل چین کو توڑنے کے بجائے زیادہ تر مال کی برآمدگی اور آخری سطح پر موجود فروخت کنندہ تک کارروائی محدود دکھائی دیتی ہے۔ ضلع بدین اور ملحقہ علاقوں میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے خلاف کسٹمز، پولیس، موٹر وے پولیس اور دیگر اداروں کی مختلف کارروائیوں میں متعدد مرتبہ بڑی مقدار میں سگریٹ برآمد کیے جا چکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں موٹر وے پولیس کی ایک بڑی کارروائی میں مبینہ طور پر 22 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ پکڑے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، اسی طرح ٹنڈو محمد خان، ٹھٹھہ، سجاول اور دیگر علاقوں میں بھی مختلف کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں سگریٹ کے کارٹن برآمد کیے گئے، جبکہ ماتلی پولیس بھی متعدد مواقع پر نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے خلاف کارروائیاں کر چکی ہے، تاہم شہری حلقوں کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد مال کے اصل سپلائرز، DSR، سیلز مین، ڈسٹری بیوٹر، سب ڈسٹری بیوٹر یا بڑے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے خلاف کتنی کارروائیاں کی گئیں اور ان میں سے کتنے افراد کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی حلقوں کے مطابق نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے بڑے ذخیرے اور سپلائی کے لیے گودام مختلف علاقوں، گلیوں، محلوں، ہوٹلوں کے عقب، دیہی علاقوں، ماتلی تحصیل کے مختلف گاؤں گوٹھوں اور بعض اہم شاہراہوں کے قریب قائم مارکیٹوں میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ جس مال کی بڑی مقدار مختلف علاقوں میں پکڑی جاتی ہے، وہ کسی نہ کسی مقام پر ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور کسی نہ کسی ذریعے سے مختلف مارکیٹوں تک پہنچتا بھی ہے، اس لیے اگر کارروائی صرف کیبن یا چھوٹی دکان سے برآمد ہونے والے سگریٹ تک محدود رہے گی تو اس کاروبار کی اصل جڑ تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا، شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ہر دکاندار اور کیبن مالک کے پاس سپلائی کرنے والے سیلز مینوں کے رابطہ نمبرز موجود ہیں تو ان رابطوں، سپلائی روٹس اور ڈسٹری بیوشن چین کی تحقیقات کے ذریعے اصل سپلائرز اور بڑے گوداموں تک پہنچنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی۔ ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی ترسیل کے لیے بعض عناصر مبینہ طور پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے والی معروف پاکستانی تمباکو کمپنیوں کے خالی کارٹن مارکیٹ سے حاصل کرکے ان میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے ڈنڈے بھر کر سپلائی کر رہے ہیں، تاکہ بظاہر یہ تاثر پیدا ہو کہ کارٹن کسی قانونی اور معروف کمپنی کی مصنوعات پر مشتمل ہیں اور نگرانی کرنے والے اداروں کو گمراہ کیا جا سکے، تاہم اس طریقہ کار کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق ضروری ہے، اس لیے شہری حلقوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ برآمد ہونے والے سگریٹ کے ساتھ ساتھ استعمال ہونے والی پیکنگ، کارٹن، سپلائی روٹس اور گوداموں کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ ماتلی کے سیاسی، سماجی اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے خلاف کارروائی میں واقعی سنجیدگی ہے تو کسی ایک سیلز مین یا DSR کے رابطہ نمبرز، سپلائی روٹ اور کاروباری روابط کی تحقیقات کے ذریعے پورے نیٹ ورک کی کڑیاں جوڑی جا سکتی ہیں، ایک سیلز مین کس سے مال لیتا ہے، کس ڈسٹری بیوٹر کو رپورٹ کرتا ہے، کس علاقے میں کس کے ذریعے سپلائی کرتا ہے اور اس کے بعد سپلائی کس بڑے نیٹ ورک سے منسلک ہے، ان تمام سوالات کی تفتیش سے اصل سپلائرز اور بڑے ڈسٹری بیوشن مراکز تک پہنچا جا سکتا ہے، شہری حلقوں کے مطابق اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں تو نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے کاروبار کی اصل جڑ تک پہنچنا ناممکن نہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی منہ، گلے اور پھیپھڑوں سمیت متعدد سنگین بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی تمباکو مصنوعات کے معیار، اجزا اور نکوٹین کی مقدار کے حوالے سے صارفین کو مکمل معلومات حاصل نہیں ہوتیں، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی وسیع پیمانے پر فروخت ایک طرف صحت عامہ کے لیے تشویش کا باعث ہے تو دوسری جانب قومی خزانے کو ممکنہ محصولات سے محرومی کا بھی سامنا ہے، کیونکہ مختلف مارکیٹ ذرائع کے محتاط غیر سرکاری اندازے کے مطابق صرف ضلع بدین میں ان سگریٹوں کی ماہانہ فروخت 10 سے 15 کروڑ روپے کے درمیان ہے، جس سے ملک بھر میں اس غیر قانونی کاروبار کے مجموعی حجم اور قومی خزانے کو ممکنہ نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے جامع تحقیقات کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ماتلی میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی فروخت اور اس سے متعلق ممکنہ محصولات کے نقصان کے حوالے سے خبریں شائع کرنے والے چار صحافیوں کو قانونی نوٹسز موصول ہونے کے واقعات نے بھی صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ بعض صحافیوں کی جانب سے مختلف ذرائع سے دباؤ کا سامنا کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی غیر قانونی کاروبار، ممکنہ ٹیکس چوری یا قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کی نشاندہی کرنا صحافت کا بنیادی فریضہ ہے، تاہم کسی خبر پر اعتراض ہو تو اس کا جواب قانونی اور صحافتی طریقہ کار کے مطابق دیا جانا چاہیے۔ ماتلی کے سیاسی، سماجی، شہری اور صحافتی حلقوں نے حکومت، کسٹمز، پولیس، ایکسائز اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے خلاف کارروائی کو صرف مال کی برآمدگی یا چھوٹے دکانداروں تک محدود رکھنے کے بجائے مکمل سپلائی چین کے خلاف جامع آپریشن کیا جائے، جس میں گوداموں، ڈپو، ویئر ہاؤسز، Super Distributor، Sole Distributor، Distributor، Sub-Distributor، DSR، فیلڈ سیلز اسٹاف اور دیگر متعلقہ کڑیوں کی تحقیقات شامل ہوں اور قانون کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ برائی کو ختم کرنا ہو تو اس کی جڑ پر وار کرنا پڑتا ہے، اسی طرح نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے کاروبار کا حقیقی خاتمہ بھی اسی وقت ممکن ہوگا جب کارروائی آخری سرے پر موجود چھوٹے دکاندار کے بجائے اس نیٹ ورک کے اصل منبع، سپلائی مراکز، ڈسٹری بیوشن چین اور ان عناصر تک پہنچے جو مبینہ طور پر اس پورے کاروبار کو مارکیٹ تک پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button