ساہیوال کیلئے مریم نواز کا بڑا اعلان، مزید 14 الیکٹرو بسیں فراہم کرنے کا فیصلہ

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ارکان اسمبلی کو ساہیوال میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور شفافیت پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کردی، جبکہ ساہیوال کے لیے مزید 14 الیکٹرو بسیں فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ضلع ساہیوال کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی، جس میں مختلف سیاسی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کرنے والے ارکان میں ولایت شاہ، قاسم ندیم، ارشد ملک، ندیم اسلم لودھی، رانا ریاض احمد اور محمد حنیف شامل تھے۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے گاؤں کی سطح تک لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ اپنے علاقوں میں جاری منصوبوں کے معیار، رفتار اور شفافیت پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ عوامی وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنایا جاسکے۔
وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں جلد مزید 14 الیکٹرو بسیں فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جدید سفری سہولیات سے شہریوں کو مزید ریلیف ملے گا۔
ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کی عوامی خدمت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ساہیوال شہر کی بیوٹیفکیشن کو شاندار اور تاریخی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
ارکان اسمبلی نے ساہیوال ڈویژن کے لیے 10 جدید نواز شریف سکولز آف ایمیننس کے اقدام کو بھی سراہا جبکہ ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں سیوریج اور ڈرینج کے منصوبوں پر اظہارِ تشکر کیا۔
ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ پہلی مرتبہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دی جارہی ہے۔ ساہیوال میں الیکٹرو بس سروس کا آغاز قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ ساہیوال کے مختلف علاقوں، جن میں عارف والا بائی پاس، یوسف والا، نور شاہ، کے ایف سی بائی پاس، جنرل بس اسٹینڈ تا کمیر، اڈہ سبیل اور بالا موڑ شامل ہیں، الیکٹرو بس سروس ہزاروں شہریوں کو سفری سہولت فراہم کررہی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف سکولز آف ایمیننس میں غریب اور امیر بچوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سکولز کا معیار کسی بھی اچھے اور بڑے نجی سکول سے کم نہیں ہوگا۔



