اسٹیٹ بینک کاشرح سود11.50فیصد پربرقراررکھنےکافیصلہ

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کی زیر صدارت مانیٹری کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کیا گیا۔ اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی مجموعی صورتحال، معاشی اشاریوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رہے گی، مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران افراطِ زر میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی اور جولائی سے فروری تک اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی، جو اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کی نچلی سطح کے مطابق تھی۔انہوں نے کہا کہ مارچ کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات، اشیائے خورونوش اور شپنگ لاگت میں اضافے نے مہنگائی پر دوبارہ دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں مئی میں افراطِ زر 11.7 فیصد اور جون میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ جولائی میں مہنگائی میں کمی متوقع ہے جبکہ ستمبر کے بعد افراطِ زر میں مزید نمایاں کمی آنے کی توقع ہے اور رواں مالی سال اوسط افراطِ زر تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے اندرونی معاشی اشاریے بہتر ہیں، تاہم جیو پولیٹیکل صورتحال اور عالمی حالات افراطِ زر پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مہنگائی بڑھانے میں کردار ادا کیا، تاہم سال کے اختتام تک افراطِ زر موجودہ سطح سے کافی بہتر ہونے کی امید ہے۔



