کشمیریوں کو الیکٹرک بسیں اور کلینک آن ویلز ملنے پر پیپلز پارٹی کیوں تپی ہوئی ہے؟ عظمیٰ بخاری

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سینئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہر رہنما نے شاید یہ قسم کھا رکھی ہے کہ جہاں بھی جانا ہے مسلم لیگ (ن) پر ہی تنقید کرنی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاس اپنی17سالہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بتانے کے لیے کچھ نہیں؟
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے انتخابات میں سنجیدہ ہوتی تو بلاول بھٹو اپنے شیڈول جلسے منسوخ کرکے نہ بھاگتے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو نے اپنے گزشتہ مایوس کن جلسے کی خفت مٹانے کے لیے اپنے شیڈول جلسے منسوخ کیے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے الزام عائد کیا کہ ایک صوبے میں 17 سال حکومت کرنے کے بعد بھی مخالف امیدواروں کو غائب کروانے والے ہمیں بتائیں گے کہ الیکشن کون جیت کر آیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما یہ بتائیں کہ وہ کشمیریوں کو الیکٹرک بسیں اور کلینک آن ویلز ملنے پر اتنے تپے ہوئے کیوں ہیں۔ پیپلز پارٹی 17 سال میں سندھ کو ٹرانسپورٹ کا نظام نہیں دے سکی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 18 ماہ میں پورے صوبے میں الیکٹرک بسیں چلا دی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز کے ہر منصوبے میں دیگر صوبے بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے بچوں کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس فراہم کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے لوگوں کو ریلیف ملے تو پیپلز پارٹی رونا دھونا شروع کردیتی ہے اور آزاد کشمیر کے عوام کو ریلیف ملے تو بھی یہی صورتحال ہوتی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی سے سوال کیا کہ آخر اس کا مسئلہ کیا ہے، ہمیں ایک ہی بار بتا دیں



