ملک بھر کے پیٹرول پمپس کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر تیل کی آمد، فروخت اور دستیاب اسٹاک کی ریئل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت اوگرا کی تجویز کردہ خصوصی موبائل ایپ اور مخصوص اسمارٹ فون کا استعمال لازمی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارش پر فلنگ اسٹیشنز کو ایک مخصوص کمپنی کے تیار کردہ اسمارٹ فون استعمال کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جن میں خصوصی مانیٹرنگ ایپ پہلے سے نصب ہوگی۔ ہر پیٹرول پمپ کے لیے دو اسمارٹ فون رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق متعلقہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) اس ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوں گی، جبکہ اس اقدام کا مقصد تیل کی آمد، فروخت اور اسٹاک کی مسلسل نگرانی، مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور اسٹاک میں ہیر پھیر کی روک تھام ہے۔ اس نظام سے مستقبل میں کسی بھی سبسڈی پروگرام کو زیادہ شفاف انداز میں چلانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پیٹرول پمپ مالکان نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے ملک بھر میں تقریباً 25 سے 26 ہزار اسمارٹ فون فراہم کیے گئے، جبکہ ہر فون کی مد میں 72 ہزار روپے وصول کیے گئے، جس کے نتیجے میں مخصوص کمپنی کے 80 سے 90 کروڑ روپے مالیت کے موبائل فون فوری فروخت ہوئے۔
پمپ مالکان کا مؤقف ہے کہ انہیں مخصوص موبائل فون خریدنے پر مجبور کیا گیا، حالانکہ اگر اوگرا کی ڈیجیٹل ایپ عام اسمارٹ فونز پر بھی باآسانی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے تو اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہر فلنگ اسٹیشن سے تقریباً 72 ہزار روپے کی کٹوتی کس قانونی اختیار کے تحت کی گئی، اس کی منظوری کس نے دی اور اس رقم کا مکمل حساب کتاب عوام اور ڈیلرز کے سامنے کب پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سفارشات کی روشنی میں عمل درآمد کیا گیا، تاہم پمپ مالکان کا دعویٰ ہے کہ بظاہر اس فیصلے سے ایک مخصوص موبائل فون بنانے والی کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔



