جبری زیادتی،گینگ ریپ کیسز میں صلح جرم تصورہوگی،عدالت کا بڑا فیصلہ آگیا
سنگین نوعیت کے کیس میں صلح کرنیوالوں کو گرفتار کرنے کا حکم
Rape text on sound block & gavel
جبری زیادتی،گینگ ریپ کیسز میں صلح جرم تصور ہوگا،عدالت کا بڑا فیصلہ آگیا۔جبری زیادتی اور گینگ ریپ کیسز میں راضی نامہ جرم قرار۔عدالت نے راضی نامہ کرنیوالوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔
سنگین نوعیت کے کیس میں صلح کرنیوالوں کو گرفتار کرنے کا حکم
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے جبری زیادتی اور گینگ ریپ سے متعلق کیسز میں بڑاحکم دیا ہے۔عدالت نے قرار دیا ہے بچوں اور خواتین سے جبری زیادتی ناقابل راضی نامہ جرم ہے اور اس نوعیت کے مقدمات میں راضی نامہ کرنے والے مدعی اور گواہان بھی جرم کے مرتکب ہیں۔
مدعی اور گواہ بھی ریپ کے کیسز میں صلح کرنے پر مجرم ہوں گے
عدالت نے راولپنڈی کے 19 مقدمات میں راضی نامے سے منحرف ہونے والے تمام مدعی اور گواہوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔کیسزمیں راضی کرنیوالوں میں10خواتین اور9مردمدعی شامل ہیں۔ عدالت نے قراردیا کہ معصوم بچوں اوربچیوں سےزیادتی کرنیوالے ملزموں کو راضی نامے کے ذریعے بری نہیں کیا جا سکتا۔
سٹی پولیس آفیسر خالد ہمدانی نے تھانوں کے ایس ایچ اوز کو فوری طور پر عدالتی حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے جھوٹے مقدمات درج کرانے والی خواتین کے خلاف بھی کارروائی کا حکم جاری کیا ہے۔