برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کیخلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی 1922 کمیٹی کے سربراہ سر گراہم بریڈی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے انہیں بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے لکھے خطوط کی حد درکار 15 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے تحت وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ ہاؤس آف کامنز میں شروع ہو گئی ہے۔ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق شب 12 بجے تک جاری رہے گا جس کے بعد نتیجہ تقریباً ایک بجے شب متوقع ہے۔واضح رہے کہ لیڈر آف اسکاٹش کنزرویٹیو ڈگلس روز نے بورس جانسن کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کردیا ہے۔برطانوی قواعد و ضوابط کے تحت وزیراعظم بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکارہیں۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس وقت اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ وہ پارٹی گیٹ اسکینڈل پر شدید دباؤ کاشکارہیں جب کہ حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کے اختیارات پر بھی سوالات اٹھائے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر کورونا لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے سمیت متعدد دیگر اسکینڈلز کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں ناکامی کی صورت انہیں مسند اقتدار سے دور کر دے گی۔



