ایک جھٹکےمیں دشمن کے6جہاز زمین بوس،وزیر اعظم نے دشمن کوسبق یاد دلادیا

وزیر اعظم شہبازشریف کا لندن میں اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب

وزیر اعظم شہبازشریف نے دشمن کو ایک بار پھر شکست یاد دلادی،کہا10مئی کی فتح  نے دشمن کو وہ سبق سیکھایا  جسے وہ زندگی بھر یادرکھے گا۔
وزیر اعظم نے لندن میں سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو10مئی کی فتح اورمعرکہ حق کی عظیم کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ فتح ہے جس کے ذریعے  دشمن کو وہ سبق سیکھایا جسے وہ زندگی بھر یادرکھے گا۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ  میرے لئے انتہائی مسرت اور فخر کی بات ہے کہ میں سمندر پار مقیم عظیم پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، آپ ملک کے وہ عظیم سفیر ہیں جو یورپ، برطانیہ ، شمالی امریکہ میں اور مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں دن رات محنت کرتے ہیں اور دیار غیر میں رزق حلال کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں صدق دل کے ساتھ  اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ  آپ  محنت سے زرق حلال کماتے ہیں، گزشتہ برس خون پسینے کی کمائی سے ساڑھے38ارب ڈالر پاکستان بھجوا ئے ہی،اس کے بغیر پاکستان کی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی جس پر آپ کو سلام  اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
اوورسیز پاکستانی ملک کے سفیر
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ سمندر پار پاکستانی نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی پوری دنیا میں ملک  کا ہر فورم پر دفاع کرتے ہیں اس پر بھی آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ دیارغیرمیں ڈاکٹرز،انجینئرز،کاروباری افراد اور محنت کش جس طریقے سے شبانہ روز محنت کرتے ہیں یہ پاکستان کی عظیم صفات ہیں جو پوری دنیا میں آپ نے بطور محنت، دیانتداری اور باوقار پاکستانی خدمات متعارف کرائی ہیں۔

سمندر پار پاکستانیوں کو 10مئی کی فتح مبارک

 

وزیر اعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو10مئی کی فتح اور عظیم کامیابی کی مبارکباد بھی دی اور کہا کہ یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سیکھایا وہ زندگی بھر یادرکھے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہم پر بے جا الزام لگایا گیا تو میں نے کاکول میں  بیان دیا اور کہا  کہ پاکستان کا اس واقعہ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور میں نے اعلان کیا کہ ایک عالمی کمیٹی قائم جائے جو پہلگام واقعہ کی شفاف  تحقیقات کرے لیکن ہمسایہ ملک نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ6مئی کو دشمن نے پاکستان کیخلاف حملہ کیا اور  بیگناہ پاکستانیوں اور مساجد اور شہری املاک پر حملے کر کے نقصان پہنچایا۔
اس پر پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی اور ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس کر دیئے گئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتہ چل گیا کہ اگر بات نکلی تو  بہت دور تک چلی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صبح ڈھائی بجے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا مجھے فون آیا اور کہاکہ وزیر اعظم  آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر دوبارہ حملہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم مجھے اجازت دیں، دشمن نے چونکہ دوبارہ مکروہ حرکت کی ہے، اس کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی میں بعض عرب دوست ممالک سے ہو کر آیا ہوں ،وہاں  ایک ملک کے سربراہ نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کونسی دو باتیں ہیں جو پاکستان کی عظیم فتح کی  وجہ بنیں، جس پر میں نے جواب دیا کہ ایک وجہ افواج پاکستان کی دلیری، شجاعت اور پیشہ وارانہ مہارت، اللہ تعالی پر بھروسہ اور بہت سی جدید اور اعلیٰ سطح کی تربیت اور دوسرا سیاسی اور عسکری قیادت کی سوچ میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی اور تیسری بات جو میں نے انہیں کہی اور بتایا کہ وہ غیر متزلزل عزم کہ ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
عرب ملکوں نے فتح کی وجہ پوچھی تو بتایا مسلح افواج کا اللہ پر بھروسہ
وزیر اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس جنگ کی قیادت کی ،ان کی بری فوج کے جوانوں اور افسران نے اپنی اعلیٰ ترین کارکردگی دکھائی اور ہمارے شاہینوں نے اور ایئر چیف ظہیر احمد بابر  نے بہترین انداز میں چھپٹ چھپٹ کر دشمن کو قابو کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کو وہ سرفرازی عطا  فرمائی جس کی  حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔
وزیر اعظم نے مسلح افواج کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے
وزیر اعظم نے کہا کہ پوری قوم کراچی سے پشاور تک سجدہ ریز تھی اور اللہ تعالیٰ نے عظیم پاکستانیوں کو وہ فتح دی کہ آج مغرب سے مشرق تک لوگ پاکستان کے سبز پاسپورٹ  کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم عظیم پاکستانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ اس معرکہ حق کے آپریشن میں جسے ہم آپریشن بنیان مرصوص کہتے ہیں اس دوران دشمن کا ایک گولہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر کے قریب آ کر لگا جس  کے نتیجہ میں ان کے کمسن بیٹے ارتضیٰ عباس شہبد ہوگئے جبکہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس لائن آف کنٹرول پر اپنی ذمہ داری پیش کر رہے تھے۔
ہم نے ننھے ارتضیٰ شہید کی نماز جنازہ پڑھی
وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے،صدر مملکت آصف علی زرداری اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس ننھے شہید کا جنازہ پڑھا اور شہید کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہواتھا ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ  ہم  نے اس قبیح حرکت کا بھرپور بدلہ  لیا ہے، جنگ بندی ہو چکی ، اب ہم امن چاہتے ہیں ،ترقی اور خوشحالی چاہتے اور پاکستان کے اندر بے روز گاری کا خاتمہ اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔
جنگ ختم ہوگئی،اب امن چاہتے ہیں
وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے یہ پیش کش کئی مرتبہ دنیا کے سامنے رکھی ہے اور دنیا نے ہماری بات سنی ہے ۔  میں نے یہ بات کئی مرتبہ کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ، پانی کے مسئلہ ، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر برابری کے بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ ہم خطے میں ہمسایہ ملک ہیں اور یہ ہم  پرمنحصر کے ہم نے امن سے رہنا ہے یا جھگڑالو ہمسایوں کی طرح رہنا ہے،یہ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم عزت اور وقار کے ساتھ رہیں لیکن اس کیلئے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا ایک بنیادی ستون ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر  کے مسئلے کو حل کئے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button