حیدرآباد(نمائندہ خصوصیJano.pk)آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے سندھ طاس معاہدے کو غلط قرار دے دیا،پاکستان کو عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا بھی مشورہ۔
آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے حیدرآباد روشن خیال فورم کی جانب سےسندھو کا نظام اور2025کاسیلاب،اسباب اور سبق کے عنوان سے مکالمے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا معاہدے میں پاکستان کا پانی روکا گیا اور بھارت کے دو بڑے ڈرین نالے پاکستانی دریاؤں میں داخل کرنے کی اجازت دی گئی۔
ترقیاتی منصوبوں اور معاہدوں کے باعث دریائوں کو نقصان پہنچا
ڈاکٹر حسن عباس نے مزید کہاکہ ترقیاتی منصوبوں اور معاہدوں کے باعث دریائوں کو نقصان پہنچا ہے،حالیہ سیلاب میں سندھو نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ اس کے راستے میں حائل رکاوٹیں کھڑی نہ کریں،سندھ طاس معاہدہ بالائی علاقوں کے پانی استعمال کنندگان کو لاتعداد ڈیمز،پانی کی ڈائیوریشن اور آلودگی کی اجازت دیتا ہے۔
سندھو خطے کو زندگی دیتا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ سندھو اس خطے کو زندگی دیتا ہے،انڈس ڈیلٹا سندھو کا بنایا ہوا ہے لیکن ہم200سال سے سندھو دریاء کے کام میں خلل اندازی کرتے آرہے ہیں،ہم نے یہ طے کر لیا کہ سندھو کمزور اور ہم مضبوط ہیں،اس دوران سندھو کو کٹ لگائے اور قرضے وہ مشین کے پاور سے کلچر اور ہم آہنگی کا جنازہ نکال دیا
سندھو نے ہمیں خبردار کردیا
حالیہ سیلاب میں سندھو نے ہم خبردار کیا ہے کہ انسان بن جائو،اگر آپ کو دریا زندگی دیتا ہے تو اس کی زندگی اجیرن کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں،دنیا میں ہر ایک منٹ میں ایک بڑا ڈیم ختم کیا جارہا ہے،دنیا کی سائنسی کمیونٹی بھی کہہ رہی ہے کہ ڈیم ہٹاؤاور دریاکو بہنے دوکیونکہ دنیا دریاکی صحت کیلئے فکر مند ہے۔
انڈس جیسا دریا کہیں نہیں
انہوں نے مزید کہا انڈس جیسا دریاء کہیں نہیں ہے،اور انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ کبھی خشک نہیں ہوا ہے، گلیشیئر،مون سوں بارشیں اور زیر زمین پانی کا میکنزم ہی ہے جو دریاء کو سالہا سال سے بہائے رکھتا ہے،ریت میں جو پانی جمع ہوتا ہے وہ واپس دریامیں چلا جاتا ہے جو قدرت ایک شاہکار ہے۔
Back to top button