گھوٹکی:سپیشل رپورٹ سابق صوبائی وزیر باری پتافی نے روزگار کی درخواست کرنے والے بے روزگار نوجوان کو تھپڑ جڑ دیا۔سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آنے کے بعد وڈیرے کو طلبہ کے احتجاجی کیمپ پر جاکر متاثر طالبعلم سے معافی مانگنا پڑگئی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سابق صوبائی وزیر کی عقل ٹھکانے آگئی
باری پتافی اپنے مسلح نجی سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ طلبہ کے احتجاجی کیمپ کے قریب سے گزرے۔کچھ طلبہ نے ان کی گاڑی کے پاس گئے اور ان سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر انہوں ایک نوجوان کوتھپڑ جڑ دیا اور دھکابھی دیا۔
ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔ تمام مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بارہ پتافی پر شدید تنقید کی اور ان کے اس عمل کو ایک بدمعاش جاگیردار کا عمل قرار دیا۔
چند گھنٹوں کی ٹرولنگ کے بعد سابق صوبائی وزیر کی عقل ٹھکانے آگئی۔سوشل میڈیا پر مسلسل تنقید ہونے کے بعد باری پتافی احتجاج کرنے والے طالب علموں کے کیمپ پر گئےاوران سے ہاتھ جوڑ کر معافی کی درخواست کی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو عوام کی بات سننی چاہیے مگر اس طرح کے رویے سے نوجوانوں میں مزید مایوسی اور اشتعال بڑھتا ہے
قبل ازیں واقعے کے بعد علاقے میں طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور باری پتافی کے خلاف نعرے بازی کی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو مسائل سننے چاہییں نہ کہ نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
Back to top button