قیامت خیز گرمی اور بے زبان قیدی! چڑیا گھر یا عقوبت خانے؟
(قسط دوم)

نہال معظم
قدرتی مسکن بمقابلہ آہنی پنجرے اور کنکریٹ باڑے!
گرمی صرف درجہ حرارت کا نام نہیں۔ جانور کے لیے اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب اسے اپنے جسم کی حرارت کم کرنے کے قدرتی ذرائع میسر نہ ہوں۔ جنگل میں ایک جانور سایہ بدل سکتا ہے، پانی تلاش کرسکتا ہے، مٹی کھود سکتا ہے، کیچڑ میں لیٹ سکتا ہے یا دن کے گرم ترین حصے میں اپنی سرگرمی محدود کرسکتا ہے۔ لیکن چڑیا گھر میں ایک جانور کو اس کے قدرتی ماحول سے نکال کر ایک محدود باڑے میں بند کردیا جاتا ہے۔ وہاں موسم سے بچنے کے تقریباً تمام راستے انتظامیہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
گینڈے کی مثال لے لیجیے۔ اس کی موٹی جلد اسے گرمی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بناتی۔ گینڈا کیچڑ میں لوٹ کر جسم کو ٹھنڈا کرنے، دھوپ سے جلد کو بچانے اور کیڑوں سے تحفظ حاصل کرنے کا قدرتی طریقہ رکھتا ہے۔ اگر چڑیا گھر میں اس کے لیے مناسب کیچڑ، پانی، سایہ اور ٹھنڈی جگہ دستیاب نہ ہو تو اس کا قدرتی کولنگ سسٹم ہی محدود ہوجاتا ہے۔
شتر مرغ گرم اور خشک ماحول کا ماہر ہے اور اس کا جسم شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کئی قدرتی صلاحیتیں رکھتا ہے، لیکن وہ بھی انتہائی گرم حالات میں سایہ اور پانی کا محتاج ہوتا ہے۔ “صحرا کا جانور” ہونا اس بات کا مطلب ہرگز نہیں کہ اسے تپتے ہوئے کنکریٹ کے باڑے میں بغیر مناسب سایے اور پانی کے چھوڑ دیا جائے۔
ہرن اور بارہ سنگھا جیسے جانوروں کے لیے بھی شدید گرمی ایک سنجیدہ مسئلہ بن سکتی ہے، خصوصاً جب انہیں سایہ دار درخت، سبزہ اور پانی میسر نہ ہو۔ جنگل میں جانور اپنے ماحول کے مطابق جگہ تبدیل کرسکتا ہے، مگر ایک محدود باڑے میں اس کی پوری زندگی چند مربع میٹر کے اندر مقید ہوتی ہے۔
بندروں کے معاملے میں درختوں کی اہمیت شاید سب سے زیادہ واضح ہے۔ درخت ان کے لیے صرف سایہ نہیں بلکہ حرکت، کھیل، آرام، چھپنے اور قدرتی رویوں کے اظہار کا ذریعہ بھی ہیں۔ اگر بندر خانہ صرف لوہے کی سلاخوں، سیمنٹ اور چند مصنوعی ڈنڈوں تک محدود ہو تو شدید گرمی کے ساتھ جانور کے ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ سایہ دار درخت، رسیاں، پلیٹ فارم اور مختلف سطحوں پر حرکت کی گنجائش اس کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔
ریچھ کا معاملہ بھی حساس ہے۔ مختلف اقسام کے ریچھوں کی موسمی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں، لیکن گرم موسم میں انہیں پانی، سایہ، مناسب وینٹی لیشن اور کولنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریچھ کے لیے صرف ایک چھوٹا سا پانی کا ٹب یا لوہے کی چھت کافی نہیں۔ اگر درجہ حرارت بڑھتا جائے اور جانور کے پاس جسمانی حرارت کم کرنے کے محدود مواقع ہوں تو ہیٹ اسٹریس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایکوریم یا رینگنے والے جانوروں کے حصے میں موجود سانپ اور اژدہے بھی اس معاملے سے باہر نہیں۔ یہ ایکٹو تھرمک جانور ہیں، یعنی اپنے جسم کا درجہ حرارت بنیادی طور پر بیرونی ماحول کے ذریعے منظم کرتے ہیں۔ انہیں صرف گرم ماحول نہیں بلکہ مناسب درجہ حرارت کے ساتھ ایسے حصوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ ضرورت کے مطابق نسبتاً ٹھنڈی جگہ تلاش کرسکیں۔ اگر پورا باڑا ہی ضرورت سے زیادہ گرم ہوجائے تو ان کے پاس جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کا راستہ محدود ہوجاتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے چڑیا گھروں کی اصل کمزوری سامنے آتی ہے۔ کئی جگہوں پر جانوروں کے باڑے اب بھی بنیادی طور پر کنکریٹ، سیمنٹ اور لوہے سے بنے ہوئے ہیں۔ شدید دھوپ میں یہ سطحیں خود گرمی جذب کرکے کئی گھنٹوں تک اسے برقرار رکھ سکتی ہیں۔ اگر اس کے ساتھ درخت کم ہوں، سایہ محدود ہو، پانی کا مناسب انتظام نہ ہو، ہوا کی گردش ناقص ہو اور جانور کو ٹھنڈی زمین یا قدرتی ماحول میسر نہ آئے تو باڑے کا اندرونی ماحول باہر کے درجہ حرارت سے بھی زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
گرمی کی لہر آتی ہے تو پنکھے چلائے جاتے ہیں، کولر لگائے جاتے ہیں، پانی کے ٹب بھرے جاتے ہیں اور بعض اوقات برف کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جانوروں کی فلاح صرف ہیٹ ویو کے دنوں کا ہنگامی منصوبہ ہے؟
موسمیاتی تبدیلی اب ایک عارضی مسئلہ نہیں رہی۔ اگر ہر سال گرمی پہلے سے زیادہ شدید اور طویل ہوتی جارہی ہے تو زو کا ڈیزائن بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ جانوروں کے لیے صرف چھت نہیں بلکہ قدرتی سایہ، درخت، گھاس، مٹی، پانی، کیچڑ، بہتر وینٹی لیشن اور مختلف درجہ حرارت والے مائیکرو ہیبی ٹیٹس ضروری ہیں تاکہ جانور خود اپنی ضرورت کے مطابق جگہ منتخب کرسکے۔
اور یہاں معاملہ صرف سہولیات کا نہیں، ذمہ داری کا ہے۔
پاکستان کے چڑیا گھروں میں جانوروں کی افسوسناک اموات کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان واقعات سے ہم نے کیا سیکھا؟ کیا ہر موت کے بعد چند دن کا شور، تحقیقات اور پھر خاموشی کافی ہے؟
اصل کہانی ابھی باقی ہے، کیونکہ اگلا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں آخر ان زو کی نگرانی کرتا کون ہے؟
جاری ہے۔۔۔



