پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، ہماری امن کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، قائمقام صدر

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں کیونکہ دنیا اس وقت تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز فوری توجہ کے متقاضی ہیں اور ہمیں بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ قائمقام صدر نے اولڈ روایئنز ایسوسی ایشن اکتالیس ویں سالانہ عشائیہ کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں انہوں نے جی سی یو کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے ادارے کی علمی برتری اور قیادت کی شاندار روایت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اتحاد کا وقت ہے، اور اسی اتحاد کا مظاہرہ اس وقت بھی کیا گیا جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر ردعمل دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، اور اگرچہ بھارت نے نہ صرف حملہ کیا بلکہ یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو بھی منسوخ کیا، تاہم پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف اپنے دفاع میں جواب دیا۔ قائمقام صدر نے مزید کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج اور سیاسی قیادت نے اپنے اتحاد کے ذریعے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاہم بھارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ قائمقام صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز، خصوصاً ٹیکنالوجی کی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی، کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ میں ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی عالمی برادری سراہ رہی ہے، اور پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
قائم مقام صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ Government College University Lahore ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے سے نمایاں قائدین، مفکرین اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد پیدا کرتا آ رہا ہے جنہوں نے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ آزادانہ سوچ اور کردار سازی کو فروغ دیتا ہے، جو اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اپنی کتاب چاہِ یوسف سے صدا کا بھی حوالہ دیا، جو انہوں نے اسیری کے دوران تحریر کی۔ اپنی طالب علمی کے دور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "اولڈ روایئن” ہونا ان کے لیے باعثِ فخر ہے اور انہوں نے اس بات کو سراہا کہ طلبہ کے درمیان دوستی اور مشترکہ تجربات کے مضبوط رشتے آج بھی قائم ہیں۔ انہوں نے اولڈ روایئنز ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ نوجوان گریجویٹس کی رہنمائی کے لیے باقاعدہ مینٹورشپ پروگرامز شروع کرے تاکہ وہ بدلتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کی کاوشوں، بالخصوص سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور جنرل سیکرٹری شہباز احمد شیخ، کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ جی سی یو لاہور کی روایات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
آخر میں قائم مقام صدر نے سابق طلبہ کو اپنی مادرِ علمی کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ کسی بھی ادارے کی اصل میراث اس کے دیرپا تعلقات اور مشترکہ اقدار میں مضمر ہوتی ہے



