سندھ کی ساحلی پٹی، زمینوں اور وسائل پر سمجھوتہ قبول نہیں، عوامی تحریک کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)عوامی تحریک ضلع بدین کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس ضلعی آرگنائزر محمد علی ٹالپر کی صدارت میں بدین میں منعقد ہوا، جس میں عوامی تحریک کے مرکزی آرگنائزر لال جروار نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوامی تحریک ضلع بدین کا کنونشن اور سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشوں، سندھ کی زمین اور وسائل پر قبضے، جلال پور سمیت تمام نئے کینالوں اور ڈیموں کے خلاف کانفرنس 24 اکتوبر کو بدین میں منعقد کی جائے گی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار کی خاطر سندھ کی وحدت، زمینوں، وسائل اور ساحلی پٹی پر سودے بازی کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے جاوید شاہ جیلانی کا سندھ کی ساحلی پٹی پر سمجھوتہ کرکے اسے وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق بیان، پیپلز پارٹی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ اقتدار کی خاطر خفیہ طور پر کیے گئے معاہدے کا واضح ثبوت ہے رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کو گمراہ کرنے اور نئے صوبوں کے خلاف جاری جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے قرارداد منظور کرانے کے بعد خاموش ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کسی فردِ واحد یا سیاسی جماعت کی ذاتی جاگیر نہیں، بلکہ سندھ سندھی قوم کا تاریخی وطن اور قوم کی مشترکہ و اجتماعی ملکیت ہے۔ سندھ کے سات کروڑ عوام پیپلز پارٹی کی اس خفیہ ڈیل کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور سندھی عوام کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ سندھی قوم پیپلز پارٹی کی سودے بازی کو مسترد کرتے ہوئے سندھ کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرے گی اور سندھ کا بچہ بچہ اپنے سمندر، دریا زمینوں اور وسائل کے تحفظ کے لیے میدان میں اترے گا انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرکے جمہوریت کا خاتمہ کیا اور صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور گورنر راج لگانے کے بعد پیپلز پارٹی کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشوں، سندھ کی ساحلی پٹی اور زمین پر قبضے، نئے کینالوں اور ڈیموں اور دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکوں کے خلاف عوامی جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا۔ ضلع بدین میں کنونشن اور کانفرنس کے ذریعے کسانوں، ماہی گیروں، محنت کشوں، نوجوانوں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کو منظم کرکے سندھ کے قومی وسائل کے تحفظ کے لیے بھرپور تحریک چلائی جائے گی اجلاس میں مہران درس، بہادر تالپور، ہمیرومل، اے کے احمدانی، مختیار بکاری، جیون کمار، جاکھرو نوحانی اور دیگر نے شرکت کی۔



