فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بڑے قانون نافذ، وقت ضائع کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں مقرر

زیورخ(ویب ڈیسک)فٹبال کے عالمی ادارے FIFA نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے متعدد نئے قوانین متعارف کرانے کی تصدیق کر دی ہے، جن کا مقصد کھیل کی رفتار تیز کرنا، وقت کے ضیاع کو روکنا اور شائقین کے تجربے کو مزید بہتر بنانا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل فیفا اور انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جو ٹورنامنٹ کے دوران نافذ العمل ہوں گی اور بعد ازاں 2026-27 سیزن کا بھی حصہ بنیں گی۔

نئے قوانین کے تحت اگر کوئی کھلاڑی جان بوجھ کر تھرو اِن یا گول کِک لینے میں پانچ سیکنڈ سے زیادہ تاخیر کرے گا تو مخالف ٹیم کو فوری فائدہ دیا جائے گا تاکہ وقت ضائع کرنے کی روایت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اسی طرح دورانِ میچ فزیو سے علاج کروانے والے کھلاڑی کو کم از کم ایک منٹ کے لیے میدان سے باہر رہنا ہوگا، تاہم گول کیپرز اور بعض مخصوص حالات میں اس قانون سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

فیفا کے چیف ریفری آفیسر  پیئرلویجی کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد کھیل کو زیادہ رواں اور دلچسپ بنانا ہے۔

نئے ضوابط کے مطابق کسی تنازع یا جھگڑے کے دوران منہ ڈھانپ کر اشتعال انگیز گفتگو کرنے والے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ بھی دکھایا جا سکتا ہے۔

ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے اختیارات میں بھی توسیع کی گئی ہے، جس کے بعد کارنر کک کے فیصلوں اور دوسرے یلو کارڈ کے نتیجے میں ہونے والی برطرفیوں کا بھی جائزہ لیا جا سکے گا۔

مزید برآں متبادل کھلاڑی کے لیے میدان چھوڑنے والے فٹبالر کو قریب ترین مقام سے 10 سیکنڈ کے اندر باہر جانا ہوگا، بصورت دیگر متبادل کھلاڑی کو اگلے اسٹاپیج تک میدان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور ٹیم کو عارضی طور پر 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑے گا۔

شدید گرمی کے پیش نظر ہر ہاف کے تقریباً 22ویں منٹ میں تین منٹ کا ہائیڈریشن بریک بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ قوانین ورلڈ کپ 2026 کو تیز رفتار، منظم اور مزید دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button