بدین:محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیرِ انتظام فلٹریشن پلانٹس ناکارہ، چار لاکھ شہری پینے کے صاف پانی سے محروم

بدین (ر پورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے) محکمہ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام چلنے والے فلٹریشن پلانٹس کی مبینہ بدحالی کے باعث بدین شہر کے چار لاکھ سے زائد شہری پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے پریشان ہیں آلو دی پانی استعمال کرنے سے مختلف خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تفصیلات کے مطابق محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی نگرانی میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے مقصد سے تقریباً دس سال قبل بدین شہر کے 14 وارڈز میں فلٹریشن پلانٹس قائم کیئے گئے تھے تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی مبینہ نااہلی کے باعث بیشتر فلٹریشن پلانٹس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور کئی پلانٹس بند پڑے ہیں شہریوں کے مطابق فلٹریشن پلانٹس کی بندش کے باعث لاکھوں شہریوں کو صاف پانی کے بجائے قاضیا واہ کا گدلا پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے استعمال سے شہریوں میں مختلف خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے شہریوں رفیق بھٹی عبد الرزاق سومرو دیگر نے صحافیوں کو بتایا کے فلٹر پلانٹس میں نصب فلٹرز جنہیں ہر تین ماہ بث تبدیل کیا جانا ہے باقاعدگی سے تبدیل نہیں کیئے جاتے ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ گزرنے کے بعد فلٹر کی جگہ فوم لگا کر صرف خانہ پُری کی جاتی ہے، جبکہ متعدد فلٹر پلانٹس کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کے حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی گرانٹ شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے پر خرچ ہونے کے بجائے مبینہ طور پر خوردبرد کی جا رہی ہے جبکہ شہری اپنے پیسوں نجی فلٹر پلانٹس سے پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر بدین اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی مبینہ نااہلی کا نوٹس لے کر ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تمام فلٹر پلانٹس فوری طور پر فعال کیے جائیں اور شہریوں کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے۔



