تھرپارکر:رن شاخ کے ٹیل تک پانی نہ پہنچنے پر سیکڑوں آبادگاروں کا احتجاج،انسان اورمویشی پیاس سے نڈھال

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر میں رن شاخ کے ٹیل والے علاقوں کے سینکڑوں آبادگاروں نے پانی کی شدید قلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ آبپاشی کی نااہلی اور غیر منصفانہ تقسیمِ آب کے باعث ٹیل تک پانی نہیں پہنچ رہا، جس کے نتیجے میں زرعی زمینیں خشک ہو چکی ہیں جبکہ انسان اور مویشی پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں۔ احتجاج کرنے والے آبادگاروں کا کہنا تھا کہ رن شاخ کے ہیڈ (منڈ) والے علاقوں میں قانون سے زیادہ آبادی اور پانی کے استعمال کے باعث ٹیل والے علاقے مکمل طور پر نظرانداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زرعی اور آبپاشی حکام بااثر زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے آبادگاروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ آبادگاروں کے مطابق آبپاشی قانون کے تحت کسی بھی شاخ پر 33 فیصد آبادی کی اجازت ہے، تاہم عملی طور پر ہیڈ کے علاقوں میں 100 فیصد تک آبادی کی جا رہی ہے، جبکہ ٹیل والے علاقوں میں 2 فیصد آبادی بھی ممکن نہیں رہی۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف فصلیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی پانی کی کمی کے سبب تڑپ رہے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ رن شاخ کے ہیڈ سے ٹیل تک تمام واٹر کورسز اور کاشت شدہ فصلوں کا شفاف سروے کرایا جائے، غیر قانونی آبادی اور پانی کے ناجائز استعمال کے خلاف کارروائی کی جائے اور پانی کی تقسیم کو قانونی فارمولے کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واٹر کورسز کی مرمت، پانی کی چوری کی روک تھام اور 33 فیصد آبادی کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کے بغیر ٹیل تک پانی کی فراہمی ممکن نہیں۔ آبادگاروں نے حکومتِ سندھ، محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ علاقوں کو پانی فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ مقامی آبادگاروں کا کہنا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کا فارمولا برطانوی دور سے نافذ ہے، مگر اس پر درست عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ہر سال ٹیل والے علاقے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق پانی کی تقسیم کو یقینی بنا کر زرعی اور انسانی بحران کا سدباب کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button