’’میررضا کیس میں غلطیاں ہوئیں، اب ازالہ کردیا‘‘آئی جی سندھ کا اعتراف

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) میر رضا کیس نے ایک بار پھر نیا رخ اختیار کرلیا، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کیس کی تحقیقات میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ مقتول کے والد نے پرانی تحقیقاتی ٹیم کو بھی شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔
کراچی میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ میر رضا کیس میں پولیس اور میڈیکو لیگل افسر سے غلطیاں ہوئیں، تاہم اب ان غلطیوں کا ازالہ کردیا گیا ہے۔
’’غلطیاں ہوئیں، اب ازالہ کردیا‘‘
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کیس میں غلطیوں اور غلط فہمیوں نے صورتحال کو پیچیدہ کیا۔ ان کے مطابق پولیس سے غلطی ہوئی تو میڈیکو لیگل افسر سے بھی غلطی ہوئی، تاہم معاملے کی اصلاح کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم مکمل طور پر آزاد ہے اور اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں۔ ان کے مطابق مقتول کے والدین کو بھی نئی کمیٹی پر اعتماد ہے۔
مقتول کے والد کا نئی ٹیم پر بھی سوال
دوسری جانب میر رضا کے والد نے پرانی تحقیقاتی ٹیم کو بھی شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اللہ کرے نئی تحقیقاتی ٹیم پہلے جیسی نہ ہو‘‘۔والد کے مطابق پرانی تحقیقاتی ٹیم نے ان کے 11 روز ضائع کیے، اس لیے اسے بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات پر اب تک مکمل اعتماد بحال نہیں ہوسکا۔
ڈیجیٹل واچ لے جانے والے افسر سے پوچھ گچھ کا مطالبہ
میر رضا کے والد نے الزام عائد کیا کہ ڈی ایس پی آفریدی ان کی بیٹی سے میر رضا کی ڈیجیٹل واچ لے کر گئے تھے، لہٰذا ان سے بھی پوچھ گچھ کی جانی چاہیے۔
انہوں نے ایس ایچ او فیروز آباد اور ایس ایچ او گلستانِ جوہر سے بھی تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
’’کیس کا رخ بدلنے کی کوشش کی گئی‘‘
مقتول کے والد نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومت اور پولیس کی جانب سے کیس کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے پاس موجود تمام شواہد نئی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی ٹیم تمام شواہد کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے اور کسی دباؤ کے بغیر تحقیقات مکمل کرے۔
تحقیقات کا نیا مرحلہ شروع
آئی جی سندھ کی جانب سے تحقیقات میں غلطیوں کے اعتراف اور نئی کمیٹی کی تشکیل کے بعد میر رضا کیس ایک مرتبہ پھر مرکزِ توجہ بن گیا ہے۔ ایک طرف پولیس نئی ٹیم کو آزاد قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب مقتول کے اہلخانہ سابقہ تحقیقاتی ٹیم کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اب سب کی نظریں نئی تحقیقاتی کمیٹی پر ہیں کہ وہ میر رضا کیس کے پیچیدہ سوالات، مبینہ کوتاہیوں اور اہلخانہ کے تحفظات کا کس حد تک شفاف جواب تلاش کر پاتی ہے۔



