امریکی دباؤ، اسرائیلی فوج لبنان سے انخلا پر مجبور

بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ اسے بلیو لائن کے قریب علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا کہا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق انخلا کے مقامات کا تعین اسرائیل اور لبنان کی تکنیکی ٹیمیں مذاکرات کے ذریعے کریں گی، جبکہ زیرِ قبضہ علاقوں کو مرحلہ وار لبنانی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے لبنان میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا کو بنیادی شرط کے طور پر رکھا تھا۔

اسی تناظر میں سوئٹزرلینڈ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے بعد پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس میں 60 روز کے اندر حتمی معاہدے کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری شروع ہوں گے، جبکہ جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی “ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ ایک نیا فریم ورک بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ کے ساتھ ساتھ محدود براہِ راست رابطوں کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

لبنان میں صورتحال کے حوالے سے علاقائی سطح پر کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button