رَن شاخ کے ٹیل میں پانی کا سنگین بحران، 50 ہزار ایکڑ زرعی زمین تباہی کے دہانے پر، آبادگاروں میں تشویش

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کی رَن شاخ کے ٹیل والے علاقوں میں آبپاشی کے پانی کی شدید قلت کے باعث زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو گئی ہیں، جبکہ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ پانی نہ ملنے کے سبب تقریباً 50 ہزار ایکڑ زرعی زمین تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ متاثرہ کسانوں کے مطابق واٹر کورسز کی کھدائی، بیج، کھاد اور زمین کی تیاری پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پانی نہ ملنے سے ان کی تمام سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔مقامی آبادگاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے مقرر کردہ 33 فیصد آبادی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث رَن شاخ کے ہیڈ پر واقع بااثر زمیندار مبینہ طور پر 100 فیصد کاشت کر رہے ہیں، جبکہ ٹیل کے علاقوں تک پانی کی رسائی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے سماجی و سیاسی شخصیت محمد خان لنڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ 14 میل سے زائد واٹر کورسز اور نہروں میں پانی 100 فیصد آبادی کے لیے بہایا جا رہا ہے، جبکہ ٹیل کے آبادگار، ان کے خاندان اور مویشی پینے کے پانی کے لیے بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث نہ صرف فصلیں تباہ ہو رہی ہیں بلکہ علاقے میں معاشی بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ محمد خان لنڈ نے مزید کہا کہ اگر محکمہ آبپاشی اپنی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تو ٹیل کے ہزاروں آبادگاروں کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رَن شاخ میں پانی کی تقسیم کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوسری جانب متاثرہ آبادگاروں اور کسانوں نے صورتحال کے خلاف تاریخی احتجاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔ مختلف دیہات میں مشاورتی اجلاس جاری ہیں، جہاں بعض آبادگاروں نے تجویز دی ہے کہ پانی کی فراہمی بحال ہونے تک تھرکول بلاک روڈ کو بند کیا جائے۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بااثر حلقوں کے دباؤ اور خوف کی وجہ سے کئی لوگ احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آبادگاروں کے درمیان معمولی مفادات اور اختلافات پر مبنی تنازعات بھی ان کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کسان، آبادگار اور مقامی برادریاں متحد نہ ہوئیں تو پانی کی قلت، بھوک اور بدحالی کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ آبادگاروں نے حکومت سندھ، محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ رَن شاخ کے ٹیل تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا نوٹس لیا جائے اور متاثرہ کسانوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔



