وائٹ ہاؤس کا چین پر امریکی ٹیرف سےبچنے کیلئے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکا دہی کا الزام

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے الزام عائد کیا ہے کہ چین امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے 40 سے زائد ممالک کو استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکہ دہی کر رہا ہے۔
امریکی رپورٹ کے مطابق چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل سمیت مختلف ممالک کے ذریعے امریکا پہنچایا جاتا ہے تاکہ ان پر چین کے عائد کردہ ٹیرف سے بچا جا سکے۔ رپورٹ میں سالانہ 40 ارب سے 303 ارب ڈالر تک کی مبینہ غیرقانونی ترسیل کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عمل میں چینی مصنوعات کے لیبل تبدیل، دوبارہ پیکنگ، معمولی پراسیسنگ، نئی رسیدیں جاری کرنے یا مصنوعات کا اصل ملک تبدیل کرکے ظاہر کرنے جیسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ امریکی رپورٹ میں جن ممالک کے ذریعے چینی اشیا کی مبینہ غیرقانونی ترسیل کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں پاکستان شامل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ رجحان 2018 میں چین پر امریکی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد زیادہ تیزی سے بڑھا۔ جن ممالک کو مبینہ طور پر اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ان میں کینیڈا، اسرائیل، یورپی یونین، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار شامل ہیں۔
امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ تجارتی دھوکہ دہی کے نتیجے میں امریکا میں تقریباً ساڑھے 4 لاکھ ملازمتیں متاثر ہوئیں، جبکہ سالانہ جی ڈی پی اور وفاقی ٹیکس آمدن کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذکورہ رپورٹ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اب ان تجارتی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دے رہی ہے جن کے ذریعے غیرملکی درآمد کنندگان مبینہ طور پر امریکی ملازمین، مینوفیکچررز اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔



