امریکہ کا مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارت خانے کی تعمیر کا معاہدہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکہ بیت المقدس کو یہودی عوام کا ابدی، تاریخی اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا ہے، جبکہ نیا مستقل سفارت خانہ اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون ساعر نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور دیرینہ اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں دسمبر 2017ء میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا گیا تھا۔
بیت المقدس اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان انتہائی متنازع علاقہ ہے۔ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیل پورے شہر پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ نے مجوزہ مستقل سفارت خانے کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ منصوبہ ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔



