امریکا اور ایران کے درمیان 7 نکات پر مذاکرات جاری، پاکستان کا ضرورت پڑنے پر دوبارہ ثالثی کا اعلان

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سات نکات پر مذاکرات جاری ہیں اور امریکا نے بھی ایرانی تجاویز کے سات نکات پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ تنازع کے حل کے لیے اسلام آباد ضرورت پڑنے پر دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور زیر بحث بعض نکات پہلے سے موجود اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تنازع کے حل میں پاکستان سمیت دیگر اہم ممالک بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطوں، تعاون اور کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
سجاد حیدر خان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں اس حوالے سے اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔
ان کے مطابق افغان طالبان وفد نے ماسکو فارمیٹ کے گزشتہ اعلامیے میں دہشت گردی سے متعلق مؤقف برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے لیے افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی محض بیانات کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا اہم مسئلہ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت سے متعلق فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
سجاد حیدر خان نے متنازع جموں و کشمیر کے علاقوں کو بھارتی نقشے میں شامل کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی یک طرفہ نقشہ سازی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا کوئی بھی یک طرفہ اقدام جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حق خودارادیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہاتھوں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جس پر پاکستان نے 3 اکتوبر کو بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرانے، ذمہ داران کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی کرنے اور تحقیقات کے نتائج پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے۔



