تونسہ کا سرکاری ہسپتال’’ایچ آئی وی‘‘پھیلانے کاسوداگربن گیا

لاہور/تونسہ شریف(خصوصی رپورٹ/جانوڈاٹ پی کے)تونسہ کا سرکاری ہسپتال’’ایچ آئی وی‘‘پھیلانے کاسوداگربن گیا۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں عوام کوفری اورمحفوظ طبی سہولیات فراہم کرنے کادعویٰ کیاجاتا ہے لیکن اس کے برعکس پنجاب کے ہی ہسپتال بچوں اور بڑوں میں خطرناک وائرس ایچ آئی وی پھیلانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
![]()
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹی ایچ کیو ہسپتال تونسہ میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث نومبر2024سے اکتوبر2025کے دوران کم از کم331بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے۔بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے تمام ثبوت بھی فراہم کردیئے ہیں لیکن حکومت کی سطح پر کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے،سرکاری ہسپتال اور حکومت کے ترجمان غیر ملکی خبر رساں ادرے کی رپورٹ کو مسترد کررہے ہیں۔
ایچ آئی وی سے جاں بحق ہونے والے 8سالہ محمد امین کی والدہ کے مطابق ان کی 10سالہ بیٹی عاصمہ بھی ایچ آئی وی پازیٹو ہو چکی ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹی ایچ کیو تونسہ میں استعمال شدہ ٹیکوں سے انجیکشن لگنے کی وجہ سے ہی بیسیوں بچوں میں ایڈز کا وائرس پھیلا۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے پہلے پہل خبرمیڈیا پرآنے کے بعدایم ایس کو معطل کردیا لیکن بعد میں پھر سے ٹی ایچ کیو تونسہ میں وہی عمل دہرایا جانے لگا ہے۔تونسہ شریف کے مقامی ڈاکٹرز کہتے ہیں ہے تونسہ ہسپتال میں زیر علاج رہنے والے70فیصد بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو پایا گیا
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل توکردیاگیا تالم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسرایک بارپھربچوں کاعلاج کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق8ماہ گزرنے کے باوجود استعمال شدہ سوئیاں سرنج اور وائلز کیساتھ کُھلی پڑی رہتی ہیں۔2019میں سندھ میں رتوڈیرو میں سینکڑوں بچوں میں ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹیو آیا جبکہ ان میں سے اکثر کے والدین کو ایچ آئی وی نہیں تھا۔سنہ2021تک متاثرہ بچوں کی تعداد1500تک جا پہنچی اورآج بھی نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔
پنجاب حکومت کہاں تھی؟
مارچ2025میں تونسہ ہسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنے کے بعد پنجاب حکومت نے فوری اقدامات کرتےہوئے ایڈز کنٹرول پروگرام کا آغاز کیا۔پروگرام کے تحت تقریباً 25ہزارافراد کی اسکریننگ کی گئی تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسی سال تونسہ ہسپتال میں مجموعی طورپر334ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے،جن میں تقریباً79فیصد متاثرین ایک سے 10سال کی عمر کے بچے تھے۔
ایڈز کے شکار8کمسن بچے زندگی کی بازہارچکےہیں!
ذرائع کے مطابق گزشتہ سال ایڈز کےباعث8کمسن بچوں کی اموات بھی ریکارڈ کی گئیں،جس نے والدین اور مقامی آبادی کوشدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔متاثرہ بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری سطح پر ان کے بچوں کا مناسب علاج نہیں کیا جا رہا۔ایچ آئی وی سے جاں بحق ہونے والے بچون کے والدین کہتے ہیں وہ مالی طور پر اس قابل نہیں کہ نجی علاج کروا سکیں،اس لیے حکومت فوری طور پر مفت اور مکمل علاج کی سہولیات فراہم کرے۔
سرکاری ہسپتال میں مناسب علاج نہ ہونے کیوجہ سے بچے ایڈز کا شکار ہوئے ،والدین کا الزام
تونسہ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر قاسم بزدار نے غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صورتحال اب کافی بہتر ہو چکی ہے۔ایڈز کنٹرول پروگرام کے بعد کیسز میں نمایاں کمی آئی ہےاور اگست2025تک کیسز کی تعداد334سے کم ہوکر82رہ گئی تھی،جو اب مزید کم ہو کرصرف4رہ گئی ہے۔
ایڈز کنٹرول پروگرام کے بعد کیسز میں نمایاں کمی آگئی،ایم ایس تونسہ ہسپتال کادعویٰ
ایم ایس کے مطابق محکمہ صحت نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے تعاون سے کارروائیاں بھی کیں، جن کے تحت گزشتہ سال دسمبر تک240عطائی کلینکس بند کیے گئےاور9ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں۔
جانوڈاٹ پی کے کے ذرائع کے مطابق سرکاری پنجاب کے محکمہ صحت نے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کے عملے کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مقامی عطائیوں کیخلاف کارروائیاں شروع کردی ہیں،اگرچہ ان کے خلاف کارروائیاں ہونی چاہئیں لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے سکینڈل میں ملوث سرکاری ڈاکٹر اور طبی عملے کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
سب سے بڑا سوال اب بھی برقرار ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے متاثر ہونے کا ذمہ دار کون ہے، اور کیا متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف مل سکے گا یا نہیں؟
تونسہ میں ایچ آئی وی کیسز — تبصرہ اور ماہرین کی رائے
تونسہ کے ٹی ایچ کیو ہسپتال سے منسوب ایچ آئی وی کیسز میں اضافے کی رپورٹس نے صحت کے نظام، انفیکشن کنٹرول اور نگرانی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر رپورٹس میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اور غیر محفوظ طبی عمل کی تفصیلات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ صورتحال پبلک ہیلتھ سسٹم کی ایک بڑی ناکامی تصور کی جائے گی۔
ماہرین کی رائے:صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی کے اس طرح کے کلسٹر کیسز عام طور پر درج ذیل وجوہات سے جنم لیتے ہیں
- غیر محفوظ انجیکشن پریکٹس (ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال)
- انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز کی خلاف ورزی
- خون کی غیر محفوظ منتقلی
- تربیت یافتہ عملے کی کمی یا غفلت
- ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایک طبی ادارے سے اتنی بڑی تعداد میں کیسز سامنے آئیں تو اس کی فورنزک میڈیکل انکوائری ناگزیر ہو جاتی ہے، تاکہ اصل ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
نظامی مسائل پر سوالات؟
صحت کے مبصرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک ہسپتال تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ بڑے نظامی مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جن میں
- دیہی علاقوں میں عطائی کلینکس کی بھرمار
- نگرانی اور ریگولیٹری اداروں کی کمزور گرفت
- انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کا فقدان
- صحت کے بجٹ اور سہولیات کی کمی
- تقابلی تناظر
ماہرین اس صورتحال کا موازنہ سندھ کے رتوڈیرو کیس سے بھی کرتے ہیں، جہاں 2019 میں بڑی تعداد میں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے۔ ان واقعات نے واضح کیا کہ کمزور ہیلتھ سسٹم میں یہ بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے اگر بنیادی احتیاطی اصولوں پر عمل نہ کیا جائے۔
اگرچہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے مختلف اعداد و شمار اور بہتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل ضرورت ایک آزاد، شفاف اور تکنیکی انکوائری کی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔یہ معاملہ صرف ایک ہسپتال کا نہیں بلکہ پورے صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔
پنجاب میں دو وزراء صحت کے باوجود شعبہ صحت کی کارکردگی پر سوالات برقرار
پنجاب میں صحت کے شعبے کی نگرانی کے لیے دو وزراء کی موجودگی کے باوجود صوبے کے صحت کے نظام کی مجموعی کارکردگی پر سوالات برقرار ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں اس امر پر بحث جاری ہے کہ انتظامی ڈھانچے میں توسیع کے باوجود عوام کو بنیادی صحت سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری کیوں نہیں آ سکی۔
ذرائع کے مطابق شعبہ صحت میں پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کے درمیان واضح فرق، بیوروکریسی کی پیچیدہ فائلنگ سسٹم، اور مختلف سطحوں پر کوآرڈینیشن کی کمی اہم مسائل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران بشمول Secretary Health کی سطح پر فیصلوں کے نفاذ میں تاخیر بھی ایک بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہے۔
صحت کے مبصرین کا کہنا ہے کہ دو وزراء کی موجودگی کے باوجود اگر ذمہ داریوں اور اختیارات کی واضح تقسیم نہ ہو تو فیصلہ سازی کا عمل متاثر ہوتا ہے اور جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں بنیادی صحت کے مراکز (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) کی کارکردگی بھی نمایاں بہتری حاصل نہیں کر سکی۔
ماہرین کے مطابق دیہی علاقوں میں عملے کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور نگرانی کے کمزور نظام کے باعث عوام کو مطلوبہ سہولیات میسر نہیں آ رہیں۔ بعض حالیہ واقعات نے انفیکشن کنٹرول کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جس سے مجموعی نظام کی کمزوری مزید واضح ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ وزراء کی تعداد نہیں بلکہ پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی اصلاحات اور نچلی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری ہے، جس کے بغیر کوئی بھی انتظامی تبدیلی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکتی۔






