عمران خان کو پھانسی یا عمر قید؟،غداری کے الزامات اور’’حوروں‘‘والے ٹیکے

لاہور(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی سیاست میں9مئی کے سیاہ ترین باب کو تین برس مکمل ہونے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سیاسی تقدیر کے حوالے سے لرزہ خیز حقائق سامنے آگئے۔
پنجاب پولیس کی رپورٹ کے مطابق319مقدمات میں نامزد35ہزار ملزموں میں سے محض11ہزار ہی قانون کی گرفت میں آسکے، جبکہ300سے زائد چالان پیش ہونے کے باوجود صرف22کیسز کا فیصلہ ہونا نظامِ انصاف پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سنگین ترین انکشاف یہ ہے کہ عمران خان کو لاہور کے10مختلف مقدمات میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے،جہاں سزائے موت یا عمر قید کی سزا کے واضح امکانات موجود ہیں۔بانی پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر ‘پھانسی’ زدہ قرار دیتے ہوئے ان کا موازنہ شیخ مجیب الرحمن سے کیا جا رہا ہے اور ان کی تحریک اب محض ٹوئٹر کی زینت بن کر رہ گئی ہے۔
پٹرول اور مہنگائی کے طوفان نے ورکنگ کلاس کی کمر توڑ دی ہے،جہاں اشرافیہ اربوں کی مراعات ڈکار رہی ہے اور غریب ٹیکسوں کے بوجھ تلے دفن ہو چکا ہے۔ اسی دوران ایک دلچسپ موڑ تب آیا جب سرجری کے ایک ذاتی تجربے کے دوران عمران خان کے مشہور زمانہ ‘حوروں والے ٹیکے’ کا تذکرہ ہوا؛ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہیئر ٹرانسپلانٹ کے کٹھن مرحلے کو اسی مخصوص انجکشن کے ذریعے پرسکون بنایا گیا جس کا ذکر خان صاحب اکثر کرتے رہے ہیں۔




