طبی دنیا کا سب سے بڑا دعویٰ،اگلے 10سال میں دنیا سے تمام بیماریاں ہمیشہ کے لیے ختم؟

راجہ نوید
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس مرض کا علاج ڈھونڈنے میں صدیوں لگ جاتے تھے، اسے اب ایک سپر کمپیوٹر محض چند گھنٹوں میں حل کر سکتا ہے؟ صحت کے شعبے میں "مصنوعی ذہانت” کا انقلاب تیزی سے برپا ہو رہا ہے، اور آج ہر طرف یہی بحث جاری ہے کہ کیا کمپیوٹر کے یہ ذہین الگورتھم آنے والے دس برسوں میں کینسر اور ایڈز جیسی موذی اور لا علاج بیماریوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکیں گے؟
حال ہی میں کچھ بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے 10 سالوں میں مصنوعی ذہانت دنیا کی تمام بیماریوں کا خاتمہ کر سکتی ہے اور ہر مرض کا علاج ڈھونڈ سکتی ہے۔ کیا یہ بات واقعی سچ ہے یا محض ایک خواب؟ آئیے اسے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت طب میں کیسے مدد کر رہی ہے؟
پہلے زمانے میں کسی نئی دوا کو بنانے اور اس پر تحقیق کرنے میں دسیوں سال لگ جاتے تھے اور اربوں روپے خرچ ہوتے تھے۔ لیکن اب مصنوعی ذہانت چند سیکنڈوں میں لاکھوں کیمیکل فارمولوں کا تجزیہ کر سکتی ہے۔ یہ ڈاکٹروں کو بیماریوں کی بروقت اور درست تشخیص کرنے، کینسر جیسی موذی امراض کو ابتدائی مراحل میں پکڑنے اور مریض کے لیے موزوں ترین دوا تجویز کرنے میں بڑی مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ٹیکنالوجی نے طبی تحقیق کی رفتار کو کئی گنا تیز کر دیا ہے۔
کیا صرف 10 سال میں سب ممکن ہے؟
ماہرینِ طب اور سائنسدان اس دعوے کو بہت زیادہ پُرامید یا بڑھ چڑھ کر پیش کی گئی بات (ہائپ) قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI ادویات کی ریسرچ کو تیز کر سکتی ہے، لیکن انسانی جسم دنیا کی سب سے پیچیدہ مشین ہے۔ کسی بھی دوا کو مارکیٹ میں لانے کے لیے صرف کمپیوٹر کا فارمولا کافی نہیں ہوتا۔
اس کے لیے کئی کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے:
پہلے مرحلے میں لیبارٹری میں تجربات ہوتے ہیں۔
پھر جانوروں پر اس کے اثرات دیکھے جاتے ہیں۔
اس کے بعد انسانوں پر کئی سالوں تک "کلینیکل ٹرائلز” (طبی تجربات) کیے جاتے ہیں تاکہ اس کے مضرِ صحت اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) کا پتہ چل سکے۔
آخر میں حکومت اور طبی ادارے اس کی منظوری دیتے ہیں۔
ان تمام مراحل میں قدرتی طور پر ایک طویل وقت درکار ہوتا ہے، جسے صرف کمپیوٹر کی اسپیڈ سے کم نہیں کیا جا سکتا۔
مختصر یہ کہ مصنوعی ذہانت طب کی دنیا کا ایک شاندار اور طاقتور ٹول ضرور ہے، جو مستقبل میں علاج کے طریقوں کو یکسر بدل دے گا اور کئی مشکل بیماریوں کے خلاف بڑی کامیابیاں بھی لائے گا۔ لیکن یہ سوچنا کہ اگلے 10 سالوں میں دنیا سے ہر بیماری ختم ہو جائے گی اور ہر مرض کا جادوئی علاج مل جائے گا، حقیقت سے دور ہے۔ AI ڈاکٹروں کا متبادل نہیں بنے گا، بلکہ یہ ڈاکٹروں کی طاقت بن کر انسانیت کی خدمت کرے گا۔



