ڈیپلو اسپتال کی مجوزہ سائٹ پر تنازع، شہریوں کا مٹی اور پانی کے نمونے تبدیل کرنے کا الزام، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی\جانوڈاٹ پی کے) ڈیپلو تعلقہ اسپتال کی نئی عمارت کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے منظور شدہ منصوبے کی مجوزہ سائٹ پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ابتدائی فنی جانچ کے دوران حاصل کیے گئے مٹی اور پانی کے اصل نمونے تبدیل کرکے لیبارٹری بھیجے گئے، جس سے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔
محمد عباس کلر، ربنواز ہالو، ابراہیم لنڈ، روشن ضمیر، انجینئر شام سندر، انجینئر کبیر اور دیگر شہریوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل انجینئرز کی ٹیم نے موجودہ اسپتال کی زمین پر کھدائی کرکے مٹی اور پانی کے نمونے حاصل کیے تھے، جہاں کم گہرائی پر ہی زیرِ زمین پانی موجود ہونے کے آثار سامنے آئے۔
شہریوں کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں جانچ کے لیے اصل نمونوں کے بجائے کسی دوسری جگہ کی مٹی اور پانی کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے تاکہ حقیقی صورتحال کو چھپایا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ دورے پر آنے والی ٹیم کو بھی مٹھی میں روک لیا گیا اور اسے اسپتال کی مجوزہ سائٹ کا معائنہ نہیں کرنے دیا گیا۔
مقامی افراد کے مطابق بعض بااثر عناصر ذاتی مفادات کے تحت فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ عوام کی خواہش ہے کہ اسپتال محفوظ، بلند اور ہوادار مقام پر تعمیر کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے فنی یا ماحولیاتی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہریوں نے پاکستان میں ورلڈ بینک کے نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خود مجوزہ سائٹ کا دورہ کریں، شفاف انداز میں مٹی اور پانی کے نئے نمونے حاصل کرائیں اور آزاد ماہرین سے فنی رپورٹس کی جانچ کروائیں تاکہ عوامی مفاد میں اسپتال کے لیے موزوں مقام کا انتخاب یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے تحفظات کو نظرانداز کرتے ہوئے موجودہ مقام پر تعمیراتی کام آگے بڑھایا گیا تو وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔
شہریوں کے مطابق موجودہ اسپتال کی زمین پر بورنگ کے دوران زیرِ زمین پانی کی بالائی سطح تقریباً ڈیڑھ فٹ جبکہ زیریں سطح تقریباً تین فٹ ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث ان کا مؤقف ہے کہ ایسی زمین پر اسپتال جیسی اہم سرکاری عمارت کی تعمیر سے قبل جامع، شفاف اور غیرجانبدار فنی جانچ ناگزیر ہے۔



