مٹھی ميں دو شعری مجموعوں کی تقریبِ، خراجِ تحسین پیش، موسیقی کی محفل سج گئی

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھی ادبی سنگت شاخ مٹھی کے زیر اہتمام سندھ کے نامور شاعر شنکر ساگر اور ایاز رضوی کے شعری مجموعوں "جب ساگر نے سر چھیڑے” اور "درد کی راحتیں” کی تقریبِ رونمائی مٹھی کے ایک مقامی ہوٹل میں نہایت جوش و خروش سے منعقد ہوئی۔ تقریب میں علمی، ادبی، ثقافتی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کی صدارت معروف شاعر ایوب کوسی نے کی، جبکہ رجب فقیر، بھارومل امرانی، امر ساہڑ، نندلال سارنگ اور دلیپ دوشی لوہانہ خصوصی مہمانوں میں شامل تھے۔

اپنے صدارتی خطاب میں ایوب کوسی نے کہا کہ کتابیں قوموں کے لیے آکسیجن اور شاعری زبان کی آکسیجن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے مشکل دور میں ترقی پسند ادب اور شاعری نے ماں کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق شنکر ساگر محبت اور حسن کا شاعر ہے، جبکہ ایاز رضوی سماج اور عشق کا شاعر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچی تخلیق کبھی فراموش نہیں ہوتی۔

صاحبِ کتاب شنکر ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی شاعری دوستوں کی محبت، رہنمائی اور اصلاح کا نتیجہ ہے۔ ایاز رضوی نے کہا کہ شاعری ان کا خاندانی ورثہ ہے اور انہیں فخر ہے کہ قدرت نے لوگوں کے دلوں کی آواز ان کے اندر سمو دی ہے۔

معروف فنکار رجب فقیر نے کہا کہ شنکر ساگر کی شاعری کا منفرد لہجہ اور روانی اس کی نمایاں خصوصیات ہیں، جبکہ ایاز رضوی کی شاعری بھی ان کے فنی سفر کو خوبصورتی بخشتی ہے۔

صحافی کاٹائو جانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شنکر ساگر ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ بہترین استاد بھی ہیں، جبکہ ایاز رضوی کی شاعری اپنی منفرد شناخت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا دور ضرور ہے، لیکن حساس جذبات سے بھرپور شاعری کی جگہ مصنوعی ذہانت کبھی نہیں لے سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ نفسانفسی کے اس دور میں بھی تھر کی سرزمین بہترین تخلیق کار پیدا کر رہی ہے۔

بھارومل امرانی نے کہا کہ شنکر ساگر کی شاعری نسل در نسل زندہ رہے گی، جبکہ امر ساہڑ نے کہا کہ ایاز رضوی کی شاعری میں روانی اور فنی پختگی نمایاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شنکر ساگر سندھی شاعری میں اپنا منفرد اور خوبصورت اسلوب رکھتے ہیں۔

نندلال سارنگ نے کہا کہ بہترین شاعری وہ ہوتی ہے جو سادہ، آسان اور عام فہم زبان میں ہو، اور شنکر ساگر اور ایاز رضوی کی شاعری اسی معیار پر پوری اترتی ہے۔

خالد مجاہد چانڈیو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایاز رضوی کی شاعری پھولوں کی خوشبو، درختوں، جانوروں اور انسانیت کے تحفظ کی شاعری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری کے ذریعے انتہاپسندی، نفرت اور تشدد کو شکست دی جا سکتی ہے۔

تقریب سے سندھی ادبی سنگت شاخ مٹھی کے سیکریٹری دلیپ دوشی لوہانہ، عبداللہ آس ہنگورجو، چمن آر تھری، شهاب الدین نہڑیو، نصیر کنبھر، اشوک شرما، ناشاد رضوان ہنگورجو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر منعقدہ مشاعرے میں اسلم کنبھر، خالد مجاہد چانڈیو، اعجاز بھانپوٹو، فیض محمد فراقی، پیار علی نہڑیو اور دیگر شعراء نے اپنا نیا اور منتخب کلام پیش کیا اور خوب داد سمیٹی۔

تقریب کے اختتام پر رنگا رنگ موسیقی کی محفل بھی منعقد ہوئی جس میں تھر کے معروف فنکار رجب فقیر اور کریم فقیر نے اپنی سریلی آواز سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ شرکاء نے ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بھرپور سراہا۔

مزید خبریں

Back to top button