تھرپارکر: مبینہ تشدد سے اونٹنی کی آنکھ ضائع ہونے کے کیس کی سماعت، عدالت نے میڈیکل رپورٹ طلب کرلی

چھاچھرو(جانوڈاٹ پی کے) تھرپارکر کی تحصیل ڈاہلی کے گاؤں بنگل رند میں اونٹنی پر مبینہ تشدد اور اس کی ایک آنکھ ضائع ہونے کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ چھاچھرو کی عدالت میں ہوئی۔
عدالت کے حکم پر اونٹنی کے مالک لیلو میگھواڑ متاثرہ اونٹنی کو لوڈر گاڑی کے ذریعے عدالت کے سامنے لے کر پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران اونٹنی کے مالک اور کیس میں گواہ نامزد دو افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔
عدالت نے متاثرہ اونٹنی کی میڈیکل رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک اونٹنی کو مالک کے حوالے کرنے کا بھی حکم دیا۔
پولیس کے مطابق رواں سال جون میں اونٹنی کو مبینہ طور پر چارہ کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔
اونٹنی کے مالک کی مدعیت میں گاؤں بنگل رند کے رہائشی حمزو، مختیار، روشن، ممتاز اور اختر رند سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے اونٹنی کو تقریباً 10 روز تک باندھے رکھا، تشدد کیا اور کئی روز تک خوراک و پانی سے محروم رکھا۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد محکمہ لائیو اسٹاک کی ٹیم متاثرہ گاؤں پہنچی اور اونٹنی کے زخموں کا علاج کیا۔ ٹیم میں شامل ڈاکٹر اجے کمار نے تصدیق کی تھی کہ اونٹنی کی ایک آنکھ مکمل طور پر ضائع ہوچکی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد دو ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ واقعے کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نوٹس لیا تھا۔



