زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 228 بھرتیوں کی جامع تحقیقات کا حکم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں گریڈ 1 سے 22 تک 228 افراد کی بھرتیوں کے معاملے کی جامع تحقیقات کا حکم دے دیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے پروفیسر احسان قادر بھابہ سمیت دیگر کی درخواستوں پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم جاری کیا۔ عدالت نے یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کو ہدایت کی کہ تمام 228 بھرتیوں کی قانونی حیثیت، میرٹ اور شفافیت کا جائزہ لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کی جائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ افراد، بشمول بھرتی کیے گئے 228 ملازمین، کو مؤقف پیش کرنے اور شنوائی کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔
درخواست گزاروں کے وکیل ذوہیب عمران شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں چھوٹے ملازمین سے لے کر پروفیسرز تک مجموعی طور پر 228 افراد کو مبینہ طور پر غیرقانونی اور غیرشفاف طریقے سے بھرتی کیا گیا۔
وکیل کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے اپنی ریٹائرمنٹ کی رات مبینہ طور پر ان بھرتیوں کے نوٹیفکیشن جاری کیے تھے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے گورنر پنجاب نے بھرتیوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سینڈیکیٹ کو ہدایات جاری کی تھیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ بعض افراد نے مبینہ طور پر سینڈیکیٹ کی تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا کیں جبکہ کچھ افراد عدالتی حکمِ امتناع کی بنیاد پر تحقیقات سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد سینڈیکیٹ کو ہدایت کی کہ گریڈ 1 سے 22 تک ہونے والی تمام 228 بھرتیوں کے قانونی طریقہ کار، میرٹ اور شفافیت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور تحقیقات مکمل کی جائیں۔



