تھر کی قسمت بدلنے کی تیاری! ننگرپارکر میں ٹورسٹ گائیڈز کی بڑی کھیپ تیار

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تھرپارکر کی سیاحتی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانے کی تیاریاں تیز، ننگرپارکر میں مقامی نوجوانوں کی ٹورسٹ گائیڈز کے طور پر تربیت کا جائزہ لینے کے لیے یونیسیف کا وفد پہنچ گیا۔ تین ماہ سے جاری تربیتی پروگرام میں 25 نوجوان شریک ہیں، جنہیں تھر کی تاریخ، ثقافت اور قدرتی مقامات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے ساتھ سیاحوں کی رہنمائی کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ننگرپارکر میں تھر ایجوکیشن الائنس (TEA) اور بینک الفلاح کے تعاون سے جاری ٹوئرازم مینجمنٹ ٹریننگ پروگرام کا یونیسیف کے وفد نے دورہ کیا۔ وفد نے تربیتی پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور زیرِ تربیت نوجوانوں سے ملاقات کی۔
یونیسیف کے وفد میں چیف فیلڈ آفس سندھ پریم چند، سوشل پالیسی اسپیشلسٹ سجاد عمران، ایجوکیشن آفیسر گلناز اور واش اینڈ کلائمیٹ اسپیشلسٹ زاہدہ شامل تھیں۔
اس موقع پر TEA کے منیجر پروگرامز بھرت کمار نے وفد کو تربیتی پروگرام اور اس کے نصاب کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ بینک الفلاح کے تعاون سے یہ پروگرام گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے۔
یونیسیف وفد نے ٹورسٹ گائیڈ ٹریننگ حاصل کرنے والے 25 نوجوانوں سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران اس بات پر گفتگو ہوئی کہ مقامی سطح پر تربیت یافتہ ٹورسٹ گائیڈز سیاحوں کو تھرپارکر کی تاریخ، ثقافت اور قدرتی مقامات کے بارے میں مستند اور بہتر معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔
شرکا کے مطابق مقامی نوجوانوں کو سیاحت کے شعبے میں تربیت دینے سے نہ صرف تھر کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
ملاقات کے دوران ٹورسٹ گائیڈز کے نیٹ ورک کے قیام، ہر گائیڈ کے لیے سوشل میڈیا پروفائل اور پیج بنانے جبکہ تھرپارکر کے مقامی علم، تاریخ اور ثقافت سے واقف گائیڈز کو تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی اداروں سے منسلک کرنے کی تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں۔
دورے کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ تھرپارکر میں سیاحت کے فروغ کے لیے مقامی افراد کو ضروری تربیت، مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں، تاکہ تھر کی منفرد تاریخ، ثقافت، روایات اور قدرتی حسن کو ملکی و غیر ملکی سیاحوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جاسکے۔



