تھرپارکر میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی،ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہونے کا خدشہ

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تھر ایجوکیشن الائنس (TEA) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرتاب شیوانی نے تھرپارکر کے اسکولوں ھوتھیئر ،مالنہور وینا اور دیگر کے دوران انکشاف کیا کہ ضلع کے بیشتر دیہی علاقوں کے اسکولوں میں خواتین اساتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ کئی اسکول مکمل طور پر لیڈی ٹیچرز سے محروم ہیں، جس کے باعث والدین اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے سے گریزاں ہیں۔انہوں نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ ریفارم سپورٹ یونٹ سندھ کے سالانہ اسکول شماری رپورٹ 2024-25 کے

اعدادوشمار کے مطابق ضلع تھرپارکر میں مجموعی طور پر 3,899 اسکول قائم ہیں جہاں 6,947 اساتذہ تعینات ہیں، تاہم ان میں صرف 821 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ ان میں سے خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد شہری علاقوں کے اسکولوں میں تعینات ہے جبکہ دیہی علاقوں کے بیشتر اسکول خواتین اساتذہ سے محروم ہیں۔پرتاب شیوانی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ تقرری نظام، جو اساتذہ کی مجموعی تعداد پر مبنی ہے، صنفی توازن کو نظرانداز کر رہا ہے جس کے نتیجے میں لڑکیوں کے داخلے اور حاضری پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور قدامت پسند معاشروں میں خواتین اساتذہ کی موجودگی والدین کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔تھرپارکر ضلع میں اسکولوں کے اعدادوشمار مطابق 3,426 پرائمری اسکول (89 فیصد)، 116 ایلیمنٹری (3 فیصد)، 223 مڈل (5.8 فیصد)، 71 سیکنڈری (1.8 فیصد) اور صرف 13 ہائر سیکنڈری اسکول (0.3 فیصد) موجود ہیں، جو پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنے میں بڑی رکاوٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔

دوسری جانب سہولیات کی کمی بھی سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ریفارم سپورٹ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق ضلع کے 745 اسکول پانی، 2,406 بجلی، 771 واش روم، 1,465 باؤنڈری وال جبکہ 3,232 اسکول سائنس لیب کی سہولت سے محروم ہیں۔

مالی وسائل کے باوجود مسائل برقرار ہیں۔ ضلع کے 1,119 اسکولوں کے اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے اکاؤنٹس میں 7 کروڑ 40 لاکھ 79 ہزار 722 روپے موجود ہیں جبکہ 3,264 اسکولوں کو اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت 1 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد جاری کیے جاچکے ہیں، جن میں سے 53 کروڑ 30 لاکھ روپے ہیڈ ٹیچرز کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوچکے ہیں۔اس رقم کو شفاف طریقے سے اسکولوں پر خرچ کیا جائے اور اس رقم کو استعمال کے لیے آسان انداز میں ٹیچرز کی رہنمائی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقوں میں خواتین اساتذہ کی ہدفی بنیادوں پر بھرتی اور تعیناتی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے دعوے عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button