جعلی انتخابی نظام کا خاتمہ اور سندھ کے حقوق کا تحفظ ہماری جدوجہد ہے، سید زین شاہ

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)جنہوں نے صوبوں پر مشتمل یہ ملک بنایا تھا، وہ آج تشویشناک صورتحال میں ہیں، سوائے پنجاب کےاس ملک کے قیام کو 79 سال گزر چکے ہیں، مگر غلط خارجہ پالیسیوں کے باعث تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے راجوخاناں میں پریس کلب گراؤنڈ کے سامنے ’’فکری بیٹھک‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم جدوجہد کرکے جعلی انتخابی نظام کا خاتمہ کریں گے سید زین شاہ نے مزید کہا کہ سندھ زمین کے اوپر اور زمین کے اندر بے شمار خزانوں کا حامل صوبہ ہے، لیکن آبادی کے ایک بڑے حصے کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے ن لیگ کے ساتھ مل کر صوبوں کی ملکیتوں پر قبضہ کیا ہے اور اپنا عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے، جسے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ کے حصے کا پانی زبردستی لے جایا جا رہا ہے تاکہ پنجاب کے بنجر علاقوں کو آباد کیا جا سکے۔ اگر ایسا جاری رہا تو سندھ کی آدھی زرخیز زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ صدر آصف علی زرداری نے نئے نہری منصوبوں کی منظوری دی، جبکہ ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے سندھ کے بجٹ سے تقریباً 1.3 ٹریلین روپے مرکز کو واپس کیے، جن سے پانی کے منصوبے بنائے جائیں گے اور دریائے چناب پر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ کیا ہم خاموش بیٹھ جائیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ سندھی عوام اپنے وسائل کی لوٹ مار دیکھتے رہیں اور خاموش رہیں۔ چاہے پیپلز پارٹی ہو یا کوئی اور، سندھی عوام بیدار ہو چکے ہیں، اپنے وسائل کا تحفظ کریں گے اور سندھ کی وحدت پر کسی قسم کا حملہ برداشت نہیں کریں گے سید زین شاہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا، اس لیے فیصلہ حکمرانوں کو کرنا ہے کہ وہ ملک کو انصاف کے ساتھ چلا کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں یا ناانصافی کے ذریعے لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرتے رہیں گے اس موقع پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سینئر نائب صدر روشن برڑو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہی سندھ کی خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی بدعنوان لوگوں کے ایک گروہ کی حکمرانی اور سندھ پر قبضے کے مترادف ہے، جس سے نجات حاصل کرکے سندھ کو ترقی اور خوشحالی پر گامزن کرنا ہوگا این اے 222 سے جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنے والے میر حسین بخش ٹالپر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہے ببرلو دھرنا ہو یا سندھ کے دیگر مسائل، سید زین شاہ کی جدوجہد کا ذکر کرنا سورج کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سید زین شاہ کے ہاتھ مضبوط کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ظلم کا راج قائم ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے ایس یو پی کے نائب صدر امیر آزاد پنہور نے کہا کہ ہم سندھ کے دکھ درد لے کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ آپ کا ساتھ ہی سندھ کو خوشحالی دے سکتا ہے۔ دھرتی کے باوقار لوگوں کو اتحاد قائم کرنا ہوگا۔



