خلع پر حق مہر واپسی کا قانون زیرِ بحث، سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو معاملہ بھیج دیا

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں خلع اور حق مہر سے متعلق اہم مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ خلع کے معاملے میں عورت کو حاصل اختیار حکومت قانون سازی کے ذریعے کیسے محدود کرسکتی ہے؟
اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے خلع کے موقع پر حق مہر کی واپسی کی حد مقرر کرنے سے متعلق قانون کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل نے کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے رکھا جائے کہ حکومت اس کیس کو آگے چلانا چاہتی ہے یا نہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ کیا پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ پنجاب سے پوچھا ہے کہ وہ اس کیس کو جاری رکھنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے مزید استفسار کیا کہ کیا پنجاب حکومت خواتین کے حقوق سے متعلق اس قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کو یہ کیس واپس لے لینا چاہیے، خلع پر کیا دینا ہے اور کتنا دینا ہے، یہ عورت کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ قرآن نے عورت کو جو اختیار دیا ہے، حکومت اسے کیسے چھین سکتی ہے اور قانون سازی کے ذریعے عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کیا جاسکتا ہے؟
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ عورت کے مقام کو کم کرنے پر عدالت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عورت کو دیا گیا حق مہر اس کی ملکیت ہوتا ہے، جبکہ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حق مہر کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جاسکتا ہے۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ جس کام سے منع نہیں کیا گیا وہ غیر اسلامی کیسے ہوسکتا ہے؟
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے فیملی ایکٹ 2015 میں ترامیم کے ذریعے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کی حد مقرر کی تھی۔ وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے کی گئی ان ترامیم کو خلافِ شریعت قرار دیا تھا، جس کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی۔



