تھرپارکر میں بھوپا گیری، کالے جادو کے وہم، ذہنی پریشانی اور خودکشیوں میں اضافے پر تشویش

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی) ضلع تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں مبینہ بھوپا گیری، کالے جادو اور توہم پرستی سے متعلق شکایات سامنے آنے لگی ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف، ذہنی دباؤ اور پریشانی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بعض مقامات پر مبینہ طور پر بھوپے لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور مختلف مسائل کو جادو، جنات یا دیگر مافوق الفطرت عوامل سے جوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افراد کی جانب سے رات کے وقت قبرستانوں میں مبینہ غیر معمولی سرگرمیاں کرنے کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف متاثرہ خاندان پریشان ہوتے ہیں بلکہ آس پاس رہنے والے لوگ بھی خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بعض شہریوں کے مطابق وہم، خوف اور مسلسل ذہنی دباؤ لوگوں کی نفسیاتی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس مبینہ بھوپا گیری اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے والی سرگرمیوں کا نوٹس لے، جبکہ محکمہ صحت کو بھی چاہیے کہ ذہنی پریشانی میں مبتلا افراد کے لیے نفسیاتی مشاورت اور ضروری طبی سہولیات فراہم کرے۔ کلوئی کے گاؤں سینھرکئی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے فون پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں مبینہ طور پر ایک بھوپو نے غریب لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ نوجوان نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث شخص کو لگام دی جائے، اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔دوسری جانب کلوئی کے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ رات کے وقت ان کے گھروں پر کنکریاں پھینک کر انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ شہریوں نے اس حوالے سے شنکر نامی ایک مبینہ بھوپو پر الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے تمام دعوؤں کی پہلے غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ دریں اثنا، ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ شہر کے بعض بااثر یا معزز سمجھے جانے والے افراد مبینہ طور پر قبرستانوں میں جا کر غیر معمولی رسومات ادا کرتے اور کالا علم سیکھتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے اس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور اگر کسی فرد کے خلاف لوگوں کو خوفزدہ کرنے، ہراساں کرنے یا قانون شکنی کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button