مایونیز ’’برگر، شوارمے کی ہی سوس نہیں، بالوں کے لیے بھی ’’سپر فوڈ‘‘!

ایمل سفیان
مایونیز ایک گاڑھی، کریمی سوس ہے جو عموماً سبزیوں کے تیل، انڈے کی زردی اور سرکہ یا لیموں کے رس کو ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اسے سلاد، سینڈوچ، برگر، شوارما، فرائز اور مختلف ڈِپس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی کریمی ساخت اور ہلکے کھٹے ذائقے نے اسے جدید کھانوں کا ایک مقبول حصہ بنا دیا ہے، لیکن مایونیز کا استعمال صرف کھانے تک محدود نہیں۔ اس کے اجزا کی وجہ سے اسے گھریلو بیوٹی ٹریٹمنٹس میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، خصوصاً خشک اور روکھے بالوں کے لیے۔
اگر آپ کے بال مسلسل ڈائینگ، ہیئر ڈرائر، اسٹریٹنر یا دیگر کیمیکل ٹریٹمنٹس کی وجہ سے اپنی نرمی اور چمک کھو چکے ہیں تو مایونیز کا ہیئر ماسک انہیں وقتی طور پر نرم، ہموار اور سلجھا ہوا محسوس کرا سکتا ہے۔ مایونیز میں موجود تیل بالوں پر ایک نرم تہہ بنا کر خشکی اور روکھے پن کے احساس کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ انڈے کی زردی میں موجود اجزا بالوں کو وقتی طور پر کنڈیشنڈ محسوس کرا سکتے ہیں۔
مایونیز ہیئر ماسک بنانے کا آسان طریقہ
اس کے لیے 2 سے 3 کھانے کے چمچ سادہ مایونیز لیں۔ بہت زیادہ خشک بالوں کے لیے اس میں ایک چائے کا چمچ ناریل یا زیتون کا تیل شامل کیا جا سکتا ہے۔ دونوں اجزا کو اچھی طرح مکس کریں اور بالوں کی لمبائی اور خاص طور پر سروں پر لگائیں۔ اگر کھوپڑی حساس یا بہت چکنی رہتی ہے تو ماسک کو جڑوں پر لگانے سے گریز کریں۔
ماسک کو تقریباً 15 سے 20 منٹ لگا رہنے دیں، پھر نیم گرم پانی سے اچھی طرح دھو کر ہلکے شیمپو سے بال صاف کریں۔ آخر میں معمول کا کنڈیشنر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مایونیز ماسک کو روزانہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہفتے میں ایک بار کافی ہے، جبکہ بہت زیادہ خشک بالوں میں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھیں کہ مایونیز بالوں کو مستقل طور پر repair نہیں کرتی اور نہ ہی دو مُنہے یا شدید خراب بالوں کو دوبارہ صحت مند بنا سکتی ہے؛ اس کا اثر بنیادی طور پر عارضی نرمی، چمک اور سلجھاؤ کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔
اگر آپ کو انڈے، سرکہ یا مایونیز میں شامل کسی دوسرے جز سے الرجی ہے تو اسے بالوں پر لگانے سے گریز کریں۔ پہلی بار استعمال کرنے سے پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر آزمائش بھی کی جا سکتی ہے۔



