سوات کے کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ،14افرادشہید،متعددزخمی

سوات/اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے)خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے میں14افرادشہیدجبکہ18افراد زخمی ہوگئے۔جاں بحق ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ دھماکے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات عمر گنڈاپور کے مطابق دھماکا کبل تھانے کے گیٹ کے قریب ہوا، جس کے نتیجے میں4 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر9افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مالاکنڈ سید فدا حسین نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خودکش حملہ آور نے تھانہ کبل میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم گیٹ پر موجود پولیس اہلکار نے اسے اندر جانے سے روک دیا، جس پر حملہ آور نے خود کو مرکزی دروازے پر دھماکے سے اڑا لیا۔
انہوں نے بتایا کہ تھانے کے قریب پولیس لائن اور دیگر حساس تنصیبات موجود ہیں، اور پولیس اہلکاروں کی بروقت مزاحمت کے باعث حملہ آور اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا، جس سے ممکنہ طور پر بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، میڈیکل عملہ اور ایمبولینسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر کبل اور سیدو شریف اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے تک جاری رہیں۔
دھماکے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت مختلف سیاسی و حکومتی شخصیات نے واقعے کی شدید مذمت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بہادر پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خودکش حملہ آور کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکا اور اپنی قربانی سے بے شمار قیمتی جانیں بچائیں۔ انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ انتظامیہ اور اسپتالوں کو ہدایت کی کہ علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ حملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔



