آبنائے ہرمز سے متعلق امریکا، ایران اور عمان عبوری معاہدے کے قریب پہنچ چکے، اعلان آج متوقع، امریکی میڈیا کا دعویٰ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس کا باضابطہ اعلان جلد، اور ممکنہ طور پر آج، کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے تجارتی جہاز ایران کے سمندری راستے سے جبکہ روانہ ہونے والے جہاز عمان کے سمندری راستے سے گزریں گے۔ اس انتظام پر ایران کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق عبوری معاہدے کی 60 روزہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سفارتی پیش رفت میں عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس فریم ورک سے اصولی اتفاق کیا تھا، جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے منگل کے روز اس کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا۔
تاہم، اس معاہدے کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکا، ایران یا عمان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے آئی ہے۔ اس لیے اس پیش رفت کو فی الحال میڈیا رپورٹس اور متعلقہ ذرائع کی اطلاعات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔



