تھرپارکر میں سیاسی کشیدگی، منشیات کا پھیلاؤپر2 ایس ایس پیز کے تبادلے،گزشتہ 3 ہفتوں سے ضلع مستقل ایس ایس پی سے محروم

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں سیاسی کشیدگی، منشیات کی بڑھتی ہوئی فروخت کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے اور مقدمات درج نہ کیے جانے کے معاملات پر گزشتہ دو ماہ کے دوران دو ایس ایس پیز سیاسی دباؤ کے باعث تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ تین ہفتوں سے ضلع مستقل ایس ایس پی سے محروم ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت تھرپارکر ضلع کی اضافی ذمہ داری ایس ایس پی عمرکوٹ سہائی عزیز ٹالپر کے پاس ہے، تاہم ضلع میں امن و امان، منشیات کی روک تھام اور حساس منصوبوں کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تھرپارکر اس وقت ملک کے اہم علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بڑے کول پاور منصوبے، کول مائننگ اور دیگر معدنی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ مختلف مقامات پر غیر ملکی انجینئرز، ٹیکنیکل ماہرین اور غیر ملکی افراد بھی کام کر رہے ہیں، جن کی سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اس کے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں میں معدنیات سے متعلق سرگرمیاں بھی جاری ہیں جس کے باعث تھرپارکر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ مقامی سماجی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس ضلع میں مستقل، ایماندار اور قابل پولیس افسر کی فوری تعیناتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھرپارکر میں بڑھتے ہوئے مسائل، منشیات کے کاروبار اور سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد مستقل ایس ایس پی تعینات کیا جائے تاکہ ضلع میں قانون کی بالادستی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button