جنوبی کوریا کا مشرق وسطیٰ جنگ میں فوج بھیجنے سے صاف انکار، ٹرمپ اور کم جونگ ان ملاقات کی کوششیں تیز

سیئول(جانو ڈاٹ پی کے) جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں جاری امریکی جنگ میں کسی قسم کا عسکری کردار ادا نہیں کرے گا اور نہ ہی وہاں فوج یا فوجی وسائل تعینات کیے جائیں گے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ سیئول مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے یا اپنے فوجی وسائل استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا جنگ میں براہِ راست عسکری شمولیت سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب صدر لی جے میونگ نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات چاہتے ہیں اور وہ صدر ٹرمپ پر زور دیتے ہیں کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بات چیت کا راستہ دوبارہ کھولا جائے۔
لی جے میونگ نے کہا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی نہیں کرا سکتے کہ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان نئی ملاقات کتنے امکانات رکھتی ہے، تاہم ان کے بقول اس ملاقات کو ممکن بنانے کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ کیا جانا چاہیے۔
جنوبی کوریا کے صدر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سیئول ایک طرف مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فوجی مداخلت سے دور رہنے کی پالیسی پر قائم ہے، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔



